صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 100
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات آنے والی ہے جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں وَانَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ اور یہ کہ قیامت کے دن جو لوگ قبروں میں ہوں گے اللہ تعالیٰ اُن کو زندہ کر دے گا۔اب اگر قبر سے مراد یہی ظاہری قبر ہو تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ قیامت کے دن صرف مسلمان زندہ کئے جائیں گے۔ہند و جو اپنے مُردے جلا دیتے ہیں، پارسی جو اپنے مُردے چیلوں کو کھلا دیتے ہیں اور عیسائی کہ وہ بھی اب زیادہ تر مر دوں کو جلاتے ہیں زندہ نہیں کئے جائیں گے۔عیسائی پہلے تو مر دوں کو دفن کیا کرتے تھے مگر اب بجلی سے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔پس اگر یہی مفہوم ہو تو لازم آئے گا کہ قیامت کے دن مسلمانوں کے سوا اور کوئی زندہ نہ ہو کیونکہ من فی القبور کی حالت اب دنیا کے اکثر حصہ میں نہیں پائی جاتی۔اس صورت میں مسلمان اور یہودی تو اپنے اعمال کا جواب دینے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے مگر باقی سب چھوٹ جائیں گے۔پس یہ معنے درست نہیں بلکہ اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان قبروں میں سے جو اُس کی بنائی ہوئی ہیں سب مردوں کو زندہ کرے گا اور ان خدائی قبروں میں وہ بھی دفن ہوتے ہیں جو مادی قبروں میں دفن ہیں اور وہ بھی جو جلائے جاتے ہیں اور وہ بھی جن کو درندے یا کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں۔پس أَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ کے الفاظ بتارہے ہیں کہ اس سے مراد وہی قبر ہے جس میں خدار کھتا ہے ، وہ قبر نہیں جس میں انسان رکھتا ہے۔اور سب مُردوں کو خواہ وہ دریا میں ڈوب جائیں، خواہ انہیں پرندے کھا جائیں، خواہ وہ جلائے جائیں، قبر والا قرار دیا گیا ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قبر اصل میں وہ مقام ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہر روح کو رکھتا ہے خواہ وہ مٹی کی قبر میں جائے ، خواہ ڈوب کر مرے اور خواہ جلایا جائے۔“ سیر روحانی نمبر ۳، انوار العلوم جلد ۱۶ صفحه ۳۱۴ تا ۳۱۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اسلام میں یہ نہایت اعلیٰ درجہ کی فلاسفی ہے کہ ہر ایک کو قبر میں ہی ایسا جسم مل ہے کہ جو لذات اور عذاب کے ادراک کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ہم ٹھیک ٹھیک نہیں کہہ سکتے کہ وہ جسم کس مادہ سے طیار ہوتا ہے۔کیونکہ یہ فانی جسم تو جاتا ہے