صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 98
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۸ ۸۰- كتاب الدعوات اسے قبر میں ڈال دیتے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو خدا تعالیٰ خود قبر میں ڈالتا ہے۔یہ مٹی کی قبر جس میں ہم انسان کو دفن کر کے آجاتے ہیں یہ اصل میں مادی جسم کا ایک نشان ہوتا ہے ورنہ اصل قبر وہی ہے جو خدا بناتا ہے۔اس مادی قبر میں مردے کو دفن کرنے ، گڑھا کھودنے ، میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے کا تمام کام ہمارے ذمہ ہوتا ہے مگر اصلی قبر میں ڈالنے کا کام اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔اس مقبرہ کے متعلق مجھے کم سے کم یہ معلوم ہوا کہ اس میں سب انسانوں سے یکساں سلوک ہوتا ہے یعنی سب کا مقبرہ تیار کیا جاتا ہے۔پس یہ قبرستان ایسا ہے جس میں کسی سے بے انصافی نہیں کی گئی بلکہ ہر ایک کا مقبرہ موجود ہے۔نیز میں نے دیکھا کہ جن کو لوگ جلا دیتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، جن کو شیر کھا جاتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، جو سمندر میں ڈوب جاتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، جو مکانوں میں جل جاتے ہیں ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے، جن کی قبروں کو لوگوں نے اُکھیڑ کر پھینک دیا ان کے مقبرے بھی یہاں موجود تھے ، وہ اس دنیا کی قبروں کو اُکھاڑ کر پھینک سکے مگر اس مقبرہ کو تو چھو بھی نہیں سکے۔غرض کوئی انسان ایسا نہ تھا جس کا مقبرہ یہاں نہ ہو خواہ اُسے جلا دیا گیا ہو ، مٹا دیا گیا ہو، مشینوں سے راکھ کر دیا گیا ہو، چیلوں اور کتوں نے اسے کھا لیا ہو، مچھلیوں کے پیٹ میں چلا گیا ہو، شیروں اور بھیڑیوں نے اُسے لقمہ بنالیا ہو، کھڈوں میں گر کر مر اہو اور گیدڑ اور دوسرے جنگلی جانور اُسے کھا گئے ہوں، ہر شخص کا مقبرہ یہاں موجود تھا، غرض چھوٹے بڑے، امیر غریب، عالیم جاہل سب کو مقبرہ حاصل تھا۔میں نے جب اس مقبرہ کو دیکھا تو کہا: دنیا نے بہتیری کوشش کی کہ لوگوں کی قبروں کو مٹاڈالے اور حوادثِ زمانہ نے بھی نشانوں کو محو کرنے میں کوئی کمی نہ کی مگر پھر بھی ایک نہ ایک مقام تو ایسا ہے جس میں تمام انسانوں کے مقبرے موجود ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس آیت میں قبر کا لفظ جو آتا ہے اس سے مراد وہ مقام ہے جس میں مرنے کے بعد ارواح رکھی جاتی ہیں خواہ مؤمن کی رُوح ہو یا کافر کی، سب کی روحیں اس مقام پر رکھی جاتی ہیں اور در حقیقت یہی قبر ہے جس میں ثواب یا