صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 97 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 97

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۷ ٨٠ - كتاب الدعوات ٦٣٦٦ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ۶۳۶۶: عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ جرير (بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَّسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتْ منصور بن معتمر) سے، منصور نے ابو وائل سے، عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجْزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ ابو وائل نے مسروق سے ، مسروق نے حضرت عائشہ فَقَالَتَا لِي إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذِّبُونَ سے روایت کی۔ آپ بیان کرتی تھیں: میرے پاس فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ دینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو أُصَدِّقَهُمَا فَخَرَجَنَا وَدَخَلَ عَلَيَّ بوڑھی عورتیں آئیں اور مجھے کہنے لگیں کہ قبروں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ والوں کو بھی ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور میں نے یہ پسند نہ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَجُوزَيْنِ۔۔ وَذَكَرْتُ کیا کہ ان کو سچا سمجھوں۔ اور وہ باہر چلی گئیں۔ اور لَهُ فَقَالَ صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذِّبُونَ عَذَابًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں نے تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! دو بوڑھی عورتیں آئیں صَلَاةٍ إِلَّا يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔ اور میں نے آپ سے سارا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا۔ اُنہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سب جانور سنتے ہیں۔ پھر میں نے اس کے بعد جب بھی آپ کو نماز میں دیکھا تو دیکھا کہ آپ ضرور ہی أطرافه: ١٠٤٩، ١٠٥٥، ١٣٧٢- عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ تشريح : التَّعَوُّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ : عذاب قبر سے پناہ مانگنا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور مقبرہ بھی ہے اور اس میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں جو مقبرہ میں ہونی چاہئیں۔ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ۔ پھر ہماری غرض چونکہ اس تعلیم کے بھیجنے سے یہ تھی کہ انسان اس پر عمل کریں اور ہمارے انعامات کے مستحق ٹھہریں اس لئے جب کوئی شخص عمل ختم کر لیتا اور امتحان کا پرچہ ہمیں دے دیتا ہے اور امتحان کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو ہم