صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 96
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۶ ۸۰ - كتاب الدعوات باب ۳۷ : التَّعَوُّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ عذاب قبر سے پناہ مانگنا ٦٣٦٤ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۶۳۶۴: حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ عیینہ نے ہمیں بتایا۔موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے سَمِعْتُ أُمَّ خَالِدٍ بِنْتَ خَالِدٍ - قَالَ بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت اُم خالد وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ بنت خالد سے سنا۔(موسیٰ بن عقبہ) کہتے تھے : میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهَا - نے اُن کے علاوہ کسی اور سے نہیں سنا کہ جس نے قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ في صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو۔وہ کہتی تھیں : میں نبی وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عذاب قبر طرفه: ١٣٧٦ - سے پناہ مانگ رہے تھے۔٦٣٦٥ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۶۳۶۵ آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ مُّصْعَبِ قَالَ ہمیں بتایا کہ عبد الملک ( بن عمیر) نے ہم سے بیان كَانَ سَعْدٌ يَأْمُرُ بِخَمْسٍ وَيَذْكُرُهُنَّ کیا۔عبدالملک نے مصعب بن سعد بن ابی وقاص) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت سعد پانچ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِهِنَّ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ دعائیں کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ان کا ذکر کرتے بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ کہ آپ یہ دعائیں کرنے کا حکم دیا کرتے تھے: یعنی اے اللہ ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بخل سے اور الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے اور میں تیری يَعْنِي فِتْنَةَ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ بنا لیتا ہوں اس سے کہ نہایت ہی نکمی عمر تک پہنچا عَذَابِ الْقَبْرِ۔دیا جاؤں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں دنیا کے فتنے سے یعنی دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ أطرافة: ۲۸۲۲، ٦۳۷۰، ٦٣٧٤ ، ٦٣٩٠- لیتا ہوں عذاب قبر سے۔٦٣٧٠،