صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 95
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۵ ۸۰- كتاب الدعوات بد نتائج قرض اور قہر الرجال سے حفاظت میں رکھے۔“ (خطبات نور صفحہ ۳۲۲) زیر باب حدیث کے الفاظ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمْ وَ الْحَزَنِ کی شرح میں علامہ بدرالدین العینی لکھتے ہیں: هم مستقبل میں پیش آنے والی نا پسندیدہ بات کو کہتے ہیں۔اور حُزن ماضی میں واقع کسی ناپسندیدہ بات کو کہتے ہیں۔بخل کرم کی ضد ہے اور جین شجاعت کی ضد ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۲) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انسان چونکہ بہت لمبے ارادے کر لیتا ہے اور پھر ان میں کامیاب نہیں ہوتا تو اس ناکامی کی وجہ سے انسان میں ھم یعنی غم پیدا ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ انسان کو لمبے ارادے کرنے سے منع کیا گیا ہے اور أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمْ کے یہی معنے ہیں کہ اے خدا! میں ان موجبات سے ہی تیری پناہ مانگتا ہوں جو ھم کا باعث ہوتے ہیں۔پھر بعض اوقات انسان ناکامی کے وجوہات تلاش کرتے کرتے گزشتہ امور میں غور کرنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں آج سے دو سال پہلے یا چار سال پیشتر اس طرح سے عمل درآمد کرتا تو آج مجھے اس ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑتا۔اگر ایسا ہو تا تو میں کامیاب ہو جاتا۔اس طرح کے غم کا نام جو گزشتہ غلطیوں اور کو تاہیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے شریعت نے حزن رکھا ہے اور اس سے پناہ مانگنے کی تاکید فرمائی ہے۔حدیث شریف میں وارد ہے: بِئْسَ الْمَطِيَّةُ لَوْ لَوْ ( اگر ایسا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور یوں ہوتا تو یوں ہو جاتا) بہت بُری چیز اور نقصان رساں لفظ ہے۔اس طرح اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمْ وَالْحُزْنِ کے یہ معنی ہوئے کہ یا الہی ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ان بواعث اور موجبات سے جن کا نتیجہ ھم اور حزن ہوتا ہے۔یعنی نہ تو مجھ میں بے جا اور لمبے لمبے ارادے پیدا ہوں اور نہ میں ”کاش“ اور ”لو کا استعمال کروں۔مطلب یہ کہ نہ مجھے موجودہ ناکامی کی وجہ سے کوئی غم ہو اور نہ گذشتہ کسی تکلیف کا خیال مجھے رنجیدہ اور ستانے کا باعث ہو سکے۔۔۔جب انسان ھم اور حزن میں ڈوب جاتا ہے تو آئندہ ترقیوں کی راہیں بھی اس کے واسطے بند و مسدود ہو جاتی ہیں۔ھم اور حزن سے فرصت ملے ، نہ یہ حصول خیر اور دفع شر کے لئے کوئی تجویز سوچے۔“ (خطبات نور صفحه ۳۱۷، ۳۱۸)