صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 94
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۴ ۸۰ - كتاب الدعوات ذَلِكَ بِنَاءَهُ بِهَا ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى بَدَا لَهُ اپنے گھر لانے کے موقع پر کیا۔پھر آپ روانہ ہو أُحُدٌ قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ گئے۔جب اُحد دکھائی دینے لگا تو آپ نے فرمایا: فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ یہ وہ چھوٹا سا) پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔جب آپ مدینہ حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ ے او پر پہنچے تو آپ نے کہا: اے اللہ! میں اس جگہ کو جو مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے اُسی لَهُمْ فِي مُدِهِمْ وَصَاعِهِمْ۔طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔اے اللہ ! انہیں ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت دیجیو۔أطرافه: ۳۷۱، ۶۱۰، ۹٤۷، ۲۲۲۸ ۲۲۳، ۲۸۸۹، ۲۸۹۳، ٢٩٤٣۳، ٢٩٤٤، ٢٩٤٥، ،٣٣٦٧ ٤٣٦٤٧ ٤٠٨٣، ٤٠٨٤، ١٩٧، ٤١٩٨ ۳۰۸۶ ،۳۰۸۵ ،۲۹۹۱ ،٥، ٥١٦٩۱۰۹ ،٤، ٥٠٨٥۲۱۳ ،٤۲۱۲ ،۱۲۱۱ ،۲۰۱ ،٤۲۰۰ ،۴۱۹۹ ۵۳۸۷، ۵۴۲۵، ۰۰۲۸، ۰۹۶۸، ٦١٨٥، ٦٣٦٩، ٧٣٣٣۔تشريح : التَّعَوذُ مِن غَلَبَةِ الرِّجَالِ: لوگوں کے غلبہ سے پناہ مانگنا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صاف بات ہے کہ جب انسان میں افلاس ہوگا، ضرورتیں مجبور کریں گی۔قحط، گرانی اشیاء کپڑا، غله، دال، گوشت، دودھ ، تعلیم ، سب چیزیں گراں ہوں گی تو انسان جس کا گزارہ ان کے سوا ہو نہیں سکتا مجبور ہو گا کہ کسی سے قرض لے اور طرح طرح کی تدابیر حصول قرض کے واسطے اسے عمل میں لانی پڑیں گی اور اس طرح سے وہ قرض کی مصیبت میں مبتلا ہو جاوے گا۔پھر چونکہ آمدنی کے ذرائع تو محدود ہیں اور آمد خرچ سے کم ہے، قرض کے ادا کرنے کی کوئی صورت نظر نہ آوے گی۔قرض خواہ لوگ تنگ کریں گے۔سختی کریں گے۔مقدمات کریں گے۔ڈگریاں کرائیں گے۔قرقیاں ہوں گی۔لوگ گلے میں کپڑا ڈالیں گے۔غرض اس طرح سے حالت بہت خطرناک اور نازک ہو جاوے گی۔اس واسطے دعا کرنی چاہیئے کہ خدا ان سب باتوں سے بچاوے اور ہم و حزن سے محفوظ رکھے۔بچے اسباب مہیا کرنے اور پھر ان سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ بخل اور جین اور پھر ان کے