صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 92 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 92

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۲ ۸۰ - كتاب الدعوات وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ عِنْدَ هَذَا اور قتادہ اس حدیث کے بیان کرتے وقت اس الْحَدِيثِ هَذِهِ الْآيَةَ : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آیت کا ذکر کیا کرتے تھے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوالا لَا تَسْعَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ ان تُبدَ لَكُمْ تَسُوكُم تَسْتَلُوا یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسی (المائدۃ: ۱۰۲) باتوں کے متعلق نہ پوچھو جو اگر تمہارے لئے ظاہر۔کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں۔أطرافه ٩٣ ، ٧٤٩،٥٤٠، ٤٦٢١ ، ٦٤٦٨، ٦٤٨٦ ، ۷۰۸۹، ۷۰۹۰، ۷۰۹۱، ۷۲۹٤، ۷۲۹۵ یح : التَّعَوذُ مِنَ الْفِتَنِ: فتوں سے پناہ مانگنا۔تین جمع ہے فقہ کی۔اس کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔نیز یہ لفظ گناہ، کفر ، قتال، احراق ( جلانا)، ازالہ اور کسی چیز سے ہٹانے کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔(النهایه لابن الاثير - فتن) ایمان کامل نہ ہو تو فتنے اور ابتلاء ایمان کی کمزوری کو ظاہر کر دیتے ہیں۔لہذا چاہیئے کہ انسان بلاؤں اور آزمائشوں کے وقت صبر سے کام لیتے ہوئے دعاؤس میں لگا ر ہے۔اس باب میں فتنوں سے پناہ مانگنے کی ترغیب اور دعا کا ذکر ہے۔بسا اوقات نامعقول سوال بھی فتنے کا سبب بن جاتے ہیں۔سوال پوچھنے مشتمل ؟ کو اسلام منع نہیں کرتا بلکہ حُسنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ قرار دیا گیا ہے۔مگر ایمانیات کا ایک حصہ غیب پر جس کا ادراک انسانی عقل نہیں کر سکتی۔جیسے خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔فرمایا: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (الانعام: ۱۰۴) ے ایسے سوال انسان کے لئے ابتلاء اور امتحان کا باعث بن جاتے ہیں جو سلب ایمان پر منتج ہوتے ہیں۔زیر باب حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بسا اوقات سوالات ادب کے دائرہ سے باہر نکلنے کا بھی سبب بن جاتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ نبی کی آواز سے اونچی آواز نہ ہو۔سوالات میں یہ پہلو بھی بعض اوقات نظر انداز ہو جاتا ہے۔علم کے حصول اور اس میں ترقی کی اسلام نے ایک اور راہ سکھائی ہے اور وہ ہے غور و فکر اور تدبر کرنا۔بعض سوال عجلت میں کر دیئے جاتے ہیں، اگر تفکر کی عادت ڈالی جائے تو بہت سے عقدے کھلنے لگتے ہیں اور الجھی ہوئی گھتیاں سلجھنے لگتی ہیں اور ان سب سے آگے ایک اور طریق جسے قرآن کریم تقویٰ کے نام سے بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے : وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة: ۲۸۳) اور چاہیئے کہ تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور (اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تمہیں علم دے گا۔تقویٰ سے وہ آنکھ نصیب ہوتی ہے جو معرفت کی آنکھ ہے۔یہ منزل عقل کی تمام بلندیوں سے آگے سلوک کی وہ راہ ہے جس میں غیب حاضر میں بدلتا جاتا ہے اور ہر سوال کا جواب مل جاتا ہے۔اسی تقویٰ سے حضرت عمرؓ نے فتنے کی اس ہوا کو سونگھ لیا اور نہایت مؤدب ہو کر یہ کلمات معرفت کہے: رَضِینَا بِالله ربا۔(مکارم الاخلاق للطبرانى، باب فَضْلُ التَّوَدُّد إلَى النَّاسِ وَمُدَارَا هم ، صفحه ۳۶۴) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں ، ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچتا ہے۔