صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 91
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۹۱ ٨٠ - كتاب الدعوات بَاب ٣٥ : التَّعَوُّذُ مِنَ الْفِتَنِ فتنوں سے پناہ مانگنا ٦٣٦٢ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۶۳۶۲: حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ که لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات الْمَسْأَلَةَ فَغَضِبَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ کرنے لگے، اس قدر سوال کئے کہ انہوں نے آپ لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ کو ان سے تنگ کر دیا۔ آپ رنجیدہ ہوئے اور منبر پر چڑھ کر فرمانے لگے : آج تم مجھ سے جس بات لَكُمْ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا کے متعلق بھی پوچھو گے میں اس کو تمہارے لئے كُلُّ رَجُلٍ لَافٌ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ضرور کھول کر بیان کروں گا۔ میں یہ سن کر دائیں فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَا حَى الرِّجَالَ اور ہائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر شخص اپنا سر يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ اپنے کپڑے میں لیٹے ہوئے رو رہا ہے۔ پھر ایک مَنْ أَبِي قَالَ حُذَافَةُ ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ شخص تھا کہ جب لوگوں سے الجھتا تو اُس کو اُس کے فَقَالَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب کر کے بلایا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا جاتا۔ وہ بولا: یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے؟ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ آپؐ نے فرمایا: حذافہ ۔ پھر حضرت عمر اُٹھے اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ فِي کہنے لگے: ہم خوش ہیں اللہ سے جو ہمارا رب ہے اور الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ إِنَّهُ صُوِّرَتْ اسلام سے جو ہمارا دین ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وس وسلم سے جو ہمارے رسول ہیں۔ ہم ابتلاؤں سے اللہ کی لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ ۔ پناہ لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر و شر میں میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ جنت اور آگ کا نقشہ مجھے دکھایا گیا یہاں تک کہ میں نے ان کو اس دیوار کے سامنے دیکھا۔