صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 90 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 90

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات بلکہ امر واقعہ کا بیان عین محل پر ہوتا ہے اور یہ رنگ خدا تعالیٰ کے کلام میں بھی نظر آتا ہے جہاں منکرین کو ھیزم جہنم اور شر البریۃ وغیرہ کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔سخت الفاظ جنہیں بادی النظر سب و شتم سمجھتا ہے ان کا استعمال در اصل طبائع مختلفہ کی اصلاح کا ذریعہ ہے جیسے لوہے کو سیدھا کرنے کے لئے اور ہتھیار استعمال ہوتا ہے اور سونے چاندی کے لئے اور اسی طرح وہ لوگ جن کے متعلق کہا جاتا ہے لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ان کی طبائع کے مناسب حال الفاظ کے چناؤ سے زجر و تویح کی جاتی ہے جیسے والدین اپنے بچوں کے لئے موقع و محل کی مناسبت سے بعض اوقات سخت الفاظ میں ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں تا اصلاح ہو اور اس کے پیچھے ایک تڑپ اور درد ہوتا ہے۔یہی تڑپ اور درد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ہے جو عنوان باب اور زیر باب حدیث کے الفاظ سے مترشح ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: مومنوں کے لئے رحمت بننے کے لئے آپ کے حریص ہونے کی انتہا دیکھیں۔یعنی میری سختی بھی اس کے لئے رحمت بن جائے۔تو اس حد تک آپ رؤف اور رحیم تھے کہ کہیں غلطی سے بھی یا ارادہ بھی اگر کسی وجہ سے کسی کو کچھ کہہ دیا ہے تو اس کی بھی سزا نہ ہو بلکہ وہ رحمت کا ذریعہ بن جائے۔پس یہ ہیں ہمارے نبی ، جو رؤف اور رحیم ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے رؤف اور رحیم کا نام دیا ہے ، جو اپنوں کے معیار بلند کرنے کے لئے بھی بے قرار ہیں اور غیروں کو بھی عذاب سے بچانے کے لئے بے قرار ہیں۔“ خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۲۳ فروری ۲۰۰۷، جلد ۵ صفحه ۷۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جذب اور عقدِ ہمت ایک انسان کو اس وقت دیا جاتا ہے جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے آجاتا ہے اور ظل اللہ بنتا ہے۔پھر وہ مخلوق کی ہمدردی اور بہتری کے لیے اپنے اندر ایک اضطراب پاتا ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ میں کل انبیاء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔اس لیے آپ مخلوق کی تکلیف دیکھ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ (التوبة: ۱۲۸) یعنی یہ رسول تمہاری تکالیف کو دیکھ نہیں سکتا۔وہ اس پر سخت گراں ہیں اور اسے ہر وقت اس بات کی تڑپ لگی رہتی ہے کہ تم کو بڑے بڑے منافع پہنچیں۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۳۴۱)