صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 89 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 89

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۹ ٨٠ - كتاب الدعوات بَاب ٣٤ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آذَيْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعا کرنا جسے میں تکلیف دوں تو یہ تکلیف اُس کے لئے پاکیزگی اور رحمت کا موجب بنادے ٦٣٦١: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ۶۳۶۱: احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ (عبد الله ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ یونس نے مجھے خبر دی۔ یونس نے ابن شہاب سے بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ روایت کی۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ مجھے بتایا۔ سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ سے سنا۔ آپ دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ ! جس مؤمن کو بھی میں نے کبھی بُرا کہا ہو تو میرا یہ بُرا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ کہنا اس کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کا موجب بنا دے۔ تشريح : مَنْ آذَيْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ وَ كَأَقَوَّرَحْمةً: جے میں تکلیف دوں تو یہ تکلیف اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت کا موجب بنادے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھا کرتے تھے۔ قریش نے ان سے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات جو بھی سنتے ہو لکھ لیتے ہو حالانکہ آپ بشر ہیں۔ کبھی آپ خوشی سے بولتے ہیں اور کبھی آپ غصہ میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ تو رسول اللہ علیہ الصلواۃ والسلام نے اُن سے فرمایا: لکھا کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا نہیں نکلتا۔ اے قاضی عیاض کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم غضب میں بھی کوئی بات خلاف حق نہیں کہتے تھے اور نہ کوئی کام خلاف حق کرتے تھے۔ ( فتح الباری جزءا اصفحہ ۲۰۶) آپ کا کسی کو سزا دینا اور کسی کو معاف کرنا خالصہ اللہ ہوتا۔ غضب کے موقعہ پر غضب اور عفو کے موقعہ پر عفو یہ اخلاق کی بلندی اور اسکا عالی مرتبہ ہے۔ انبیاء کے کلام میں جسے لوگ سب و شتم سمجھتے یا قرار دیتے ہیں وہ ہر گز سب وشتم نہیں ہوتا ا (سنن ابی داود، كتاب العلم ، باب فى كتاب العلم، روایت نمبر ۳۶۴۶)