صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 88
صحیح البخاری جلد ۱۵ AA ۸۰ - كتاب الدعوات چلا جائے۔پس یہ کتنی بڑی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔اس نے خود فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کرو گے تو وہ نہ صرف انہیں قبول کرے گا بلکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کام پر لگا دیا ہے کہ آپ ہمارے لئے دعائیں کریں۔اللہ آپ کی دعاؤں کو قبول کر کے اپنی رحمانیت کے تحت ہر وقت ان کے ثواب میں بڑھوتی کرتا چلا جائے گا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اظلال نے بھی ہمیشہ اور ہر وقت موجود رہنا ہے اس لئے ان کو بھی یہ حکم ہے کہ تم جس جماعت پر مقرر کیے گئے ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظل ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ہمیشہ دعائیں کرتے رہو۔چنانچہ اس حکم کے ماتحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین مسجد دین اور اولیائے اُمت اپنے لئے اتنی دعائیں نہ کرتے تھے جتنی دعائیں انہوں نے اُمت مسلمہ کے لئے کیں اور اب جماعت احمدیہ کے خلفاء بھی اپنے لئے اتنی دعائیں نہیں کرتے (یا نہیں کرتے رہے) جتنی دعائیں وہ احمدی بھائیوں کے لئے کرتے ہیں اور کرتے رہے ہیں اور اس امید اور یقین سے دعا کرتے اور کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان دعاؤں کے نتیجہ میں مومنوں کے دلوں میں تسکین پیدا کرے گا۔پھر ہمارا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر جاتا ہے ، جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری حقیر دعاؤں کے نتیجہ میں واقعہ میں مومنوں کے دلوں میں تسکین پیدا ہو جاتی ہے اور جماعت کے افراد کے سینکڑوں خطوط اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ اِنَّ صَلوتَكَ سَكَن لَّهُمْ کو ہر آن پورا کر رہا ہے۔کبھی وہ ہماری دعاؤں کو قبول کر کے مومنوں کے دلوں میں تسکین کے سامان پیدا کرتا ہے اور کبھی وہ مومنوں کو قوت برداشت عطا کر کے ان کیلئے تسکین کے سامان مہیا کرتا ہے۔بہر حال وہ ان کے دلوں میں تسکین کے سامان پید ا کر دیتا ہے اور یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل ہے۔“ خطبات ناصر ، خطبه جمعه فرموده ۲۵، فروری ۱۹۶۶، جلد اول صفحه ۱۶۵،۱۶۴)