صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 87
صحیح البخاری جلد ۱۵ AL ۸۰ - كتاب الدعوات دیا ہے اور قرآن کریم کے اس حکم کی تعمیل میں روایت نمبر ۶۳۵۹ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کیا ہے کہ صدقہ دینے پر حضرت ابو اوٹی کے لئے اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى کے الفاظ میں ان کے لئے درود کی دعا کی۔اور روایت نمبر ۶۳۶۰ سے آپ کے قول قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ کے الفاظ سے آپ کی ذات بابرکات کے علاوہ آپ کی ازواج اور ذریت کے لئے صلوۃ (درود) پڑھنے کا مومنوں کو حکم دیا ہے۔فقہاء نے اس پر بڑی طویل بخشیں کی ہیں مگر جو بات قرآن کریم، سنت رسول اور حدیث سے ثابت ہو اس پر کسی بحث اور مزید دلائل کی ضرورت نہیں ہے۔فقہاء لفظی بحثوں میں اُلجھ گئے ہیں۔دراصل اصطلاح اور عدم اصطلاح کے فرق کو نہ سمجھنے کا یہ نتیجہ ہے۔عام معروف اصطلاح اور درود شریف کے متعلق تعامل یہی ہے کہ یہ دعائیہ الفاظ اللَّهُمَّ صَلِ عَلَى مُحمد۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص ہیں مگر معروف اصطلاح سے ہٹ کر معنوی اعتبار سے ان دعائیہ کلمات کا غیر نبی کے لئے استعمال نہ صرف منع نہیں بلکہ جائز اور بعض مواقع کی مناسبت سے ضروری اور مفید ہے جیسا کہ زیر باب آیت اور احادیث سے ثابت کیا گیا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 1 اس آیت ( وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنُ لَهُم - از ناقل) میں اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( اور ان کے ان اظلال کو بھی جو آپ کے بعد ہونے والے تھے ) مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لئے دعا بھی کر کیونکہ تیری دعا ان کے لئے تسکین کا موجب ہو گی۔میں سمجھتا ہوں کہ مومنوں کے لئے اس میں بہت بڑی بشارت ہے اور وہ بشارت یہ ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دو گے ، اگر تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی وہ چیزیں پیش کرو گے جن کے تم حقیقی مالک ہو اور خدا تعالیٰ کی عطا میں سے وہ تمہارے لئے ہی مخصوص کی گئی ہیں اور پھر تم انہیں بڑی خوشی اور بشاشت سے پیش کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری ان قربانیوں کو قبول کر لے گا اور نہ صرف وہ تمہاری قربانیوں کو قبول کرے گا بلکہ اس نے تمہارے لئے دعاؤں کا ہمیشہ بہنے والا اور کبھی بھی خشک نہ ہونے والا دریا جاری کر دیا ہے کیونکہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ تم مومنوں کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کا صرف بدلہ ہی نہ دے بلکہ اپنی رحمانیت کی صفت کے ماتحت ان کے ثواب میں ہر آن اور ہر لحظہ زیادتی کرتا چلا جائے اور اپنے قرب کی راہیں ان پر ہر وقت کھولتا رہے اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں وہ انہیں بلند سے بلند تر مقام کی طرف لے جاتا