صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 86 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 86

صحیح البخاری جلد ۱۵ AT ۸۰ - كتاب الدعوات قَالَ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ أَبِي طريق تھا کہ جب آپ کے پاس کوئی شخص صدقہ بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ لے کر آتا تو آپ دعا کرتے : اے اللہ ! اس پر اپنا خاص رحم فرما۔میرے والد بھی آپ کے پاس أَبِي أَوْفَى۔صدقہ لے کر آئے تو آپ نے دعا کی: اے اللہ ! ابو اوفی کے خاندان پر خاص رحمت فرما۔أطرافه ١٤٩٧، ٤١٦٦، ٦٣٣٢- ٦٣٦٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۶۳۶۰: عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مَّالِكِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ نے مالک سے، مالک نے عبد اللہ بن ابی بکر سے، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمِ الزُّرَقِيَ عبد اللہ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عمرو قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ بن سليم زرقی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ مجھے حضرت ابوحمید ساعدی نے خبر دی۔انہوں نُصَلِّي عَلَيْكَ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِ نے کہا: یارسول اللہ ! ہم آپ کے لئے رحمت کی عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا دعا کیسے کیا کریں؟ آپ نے فرمایا: یوں کہا کرو: اے اللہ ! محمد اور ان کی ازواج اور ان کی ذریت صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ پر ویسے ہی رحمت فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم کے خاندان پر رحمت کی اور محمد اور ان کی ازواج اور عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔طرفه: ٣٣٦٩۔ان کی ذریت کو ویسے ہی برکت دے جیسے تو نے ابراہیم کے خاندان کو برکت دی۔یقینا تو بہت ہی خوبیوں والا بہت ہی بڑائی والا ہے۔تشریح : هَلْ يُصَلَّى عَلَى غَيْرِ النبي ﷺ کی نبیصلی اللہ علیہ وسلم کے سواکسی اور پر بھی درود بھیجا جاسکتا ہے۔امام بخاری جب کسی باب کا عنوان ”ھل“ (حرف استفہام) سے شروع کرتے ہیں تو اس میں زیادہ تر صورت استفتائی مد نظر ہوتی ہے۔عنوان باب هَلْ يُصَلَّى عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دیگر لوگوں پر صلوۃ“ یعنی درود بھیجنا جائز ہے۔اس کا جواب امام بخاری نے سورۃ التوبہ کی آیت نمبر ۰۳ اسے دیا ہے۔فرماتا ہے: وَصَلَ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلوتَكَ سَكَنَ لَهُمُ۔اور تو ان پر درود بھیجا کر کیونکہ تیرا اُن پر درود بھیجنا اُن کے لیے تسلی کا موجب ہے۔اس آیت سے امام بخاری نے غیر نبی کے لئے درود کے جواز کا فتویٰ