صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 85 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 85

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵ ٨٠ - كتاب الدعوات (سنن ترمذی کتاب الدعوات باب جامع الدعوات) تو آپ بھی دعاؤں میں یہ بات نہ نام بھولنا کہ حمد کے ساتھ ہی بے اختیار دل سے درود کے چشمے بھی پھوٹ پڑیں تا کہ نا ممکن ہو جائے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے لئے ان دعاؤں کارڈ کرنا۔“ (خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۰ استمبر ۱۹۸۲ء، جلد اول صفحه (۱۴۸) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے، بکثرت پڑھو۔ مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔ قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں۔ اول اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي ۔ (آل عمران: ۳۲) دوم ياتها الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا } (الأحزاب: ۵۷) تیسر ا موهبت الهی۔“ (رساله ریویو آف ریلیجز، جنوری ۱۹۰۴، جلد ۳ نمبر اصفحه ۱۵،۱۴) بَاب ٣٣ : هَلْ يُصَلَّى عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور پر کبھی درود بھیجا جا سکتا ہے وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور تو ان پر درود بھیجا کر صلوتك سَكَنَ لَهُمْ (التوبه : ١٠٣) کیونکہ تیرا اُن پر درود بھیجنا اُن کے لیے تسلی کا موجب ہے۔ ٦٣٥٩ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۶۳۵۹ : سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ سے، ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ إِذَا أَتَى رَجُلٌ عمرو نے حضرت (عبدالله) ابن ابی اوفی سے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَتِهِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔“ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم بھی اس پر درود اور خوب خوب سلام جو