صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 84 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 84

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۴ ٨٠ - كتاب الدعوات شاء حضرت نو حضرت فضالہ بن عبید عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا۔ اس نے ( دعا میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جلد بازی سے کام لیا۔ پھر اسے بلایا اور اسے یا کسی اور کو فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ کی حمد و ثناء سے شروع کرے، پھر اسے چاہیئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے ، اس کے بعد چاہے دعا کرے۔ اور سنن نسائی کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ ہیں : ادْعُ محجب، وسل تعط کے تمہاری دعا قبول ہو گی، تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ ان روایات سے واضح ہے کہ قبولیت دعا کے لئے درود شریف وہ سیڑھی ہے جس سے دعا عرش الہی پر پہنچتی ہے اس لئے فقہاء کا یہ فتویٰ کہ درود شریف نماز میں پڑھنا فرض ہے یا مستحب کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور نہ اس کے لئے کسی اور فقہی یا منطقی دلیل کی ضرورت ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مة دعا کی قبولیت کیلئے ایک گر جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے علی علیرام نے ہمیں بتایا ہے وہ آپ سب کو معلوم ہونا چاہیے۔ ۔ آنحضور صلی الم نے فرمایا کہ دعا کی قبولیت کا ایک راز تمہیں می بتاتا ہوں۔ پہلے خوب اپنے رب کی حمد کرو۔ اس کی محبت کے گیت گاؤ اور مجھ پر درود بھیجو۔ اس لئے کہ آپ خدا کو سب سے زیادہ پیارے ہیں اور یہی چیز ہے جو فطرتا بھی ہمیں نظر آتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جو ہو شیار فقیر ہیں۔ وہ بعض دفعہ ماؤں سے بھی بڑھ کر بچوں کو دعائیں دیتے ہیں۔ جانتے ہیں کہ یہ ایسی محبت ہے کہ یہ بچوں کی محبت کی وجہ سے مجبور ہو جائیں گی ہمیں کچھ ڈالنے کے لئے۔ تو آنحضرت صلی الم کیسے عارف باللہ تھے۔ خوب جانتے تھے ان رازوں کو۔ پس آپ نے فرمایا کہ دعائیں قبول کروانا چاہتے ہو تو مجھ پر درود بھیجا کرو، ساتھ پہلے حمد کرو اللہ کی ، وہ اوّل ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ پھر جو مانگو خدا قبول فرمائے گا۔ تو اسی طریق کو اختیار کیا جائے۔ آنحضرت ل اللہ ہم نے ایک بچے کو جب یہ سمجھایا تو اس کے بعد وہ نماز پڑھنے کے بعد بیٹھا اس نے دعائیں کیں ، حمد کی اور پھر درود بھیجے۔ وہ خود روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی الم کا چہرہ تمتما اٹھا۔ خوشی سے دیکھ کر پیار سے مجھے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ بچے ! ٹھیک کر رہے ہو ، ٹھیک کر رہے ہو ، ٹھیک کر رہے ہو ، یہی طریق ہے دعاؤں کا۔ ا ( سنن الترمذى، أَبْوَابُ الدَّعوات، روایت نمبر ۳۴۷۷) (سنن النسائي، كتاب السَّهْوِ ، بَابُ التَّمْجِيدِ وَالصَّا الشَّمْجِيدِ وَالصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ في الصلاة، روایت نمبر ۱۲۸۴)