صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 83 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 83

صحیح البخاری جلد ۱۵ ٨٣ ۸۰ - كتاب الدعوات بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ۔ابراہیم کو نوازا۔اور محمد اور آل محمد کو برکتیں عطا کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم کو برکتیں طرفه: ٤٧٩٨ - عطا کیں۔شريح : الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رحمت خاص کی دعا کرنا۔زیر باب روایت میں یہ ذکر ہے کہ صحابہ نے پوچھا یار سول اللہ آپ پر سلامتی کی دعا کا تو ہمیں علم ہو گیا ہے صلوۃ یعنی درود کا علم نہیں ہے۔سلام کا ذکر بخاری کی روایت نمبر ۸۳۱ میں آیا ہے۔(کتاب الاذان، باب التشهد فى الآخرة) جو کہ التحیات کی دعا میں السّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النبي۔۔کے الفاظ ہیں۔شارحین نے لکھا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ نماز میں التحیات کی دعا سکھائی جاچکی تھی مگر (الصلوۃ) درود کی دعا ابھی نہیں سکھائی گئی تھی۔زیر باب روایات میں اس موقع کا ذکر ہے جب صلوۃ یعنی درود سکھایا گیا۔مسلم کی ایک روایت میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔حضرت ابو مسعود بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن عبادہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔حضرت بشیر بن سعد نے آپ سے عرض کی: أَمَرَنَا اللهُ تَعَالَى أَنْ نُصَلَّى عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى تَمَنَيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درود بھیجیں تو ہم کس طرح آپ پر درود بھیجیں؟ راوی کہتے ہیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے خواہش کی کاش وہ آپ سے سوال نہ کرتا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہا کرو: اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحمد۔اے اللہ محمد پر اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی اور محمد پر برکت نازل فرما اور آپ کی آل پر جس طرح تو نے آل ابراہیم کو سب جہانوں میں برکت دی۔یقینا تو بہت قابل تعریف اور بہت بلند شان والا ہے اور سلامتی کی دعا ( اس طرح کرو) جیسے تم جانتے ہو۔فقہاء نے یہ بحث بھی اُٹھائی ہے کہ التحیات کے بعد نماز میں درود شریف پڑھنا فرض ہے یا مستحب۔علامہ ابن ملقن نے اس کے جواب میں حضرت فضالہ بن عبید کی روایت پیش کی ہے۔جس میں یہ ذکر ہے: فضالة بن عُبَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يُصَلِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَمِلَ هَذَا ، ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوَ لِغَيْرِهِ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأُ بِتَحْمِيدِ اللهِ وَ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ لَيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ لَيَدُعُ بَعْدِيمَا (مسلم، کتاب الصلاة، باب الصَّلَاةِ عَلَى النّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشهد، روایت نمبر ۴۰۵) التوضيح لشرح الجامع الصحيح، کتاب الدعوات، باب الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِي ، جزء ۲۹ صفحه ۲۹۲)