صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 81 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 81

صحیح البخاری جلد ۱۵ Al ۸۰ - كتاب الدعوات شريح : الدُّعَاءُ لِلصّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحُ رُءُوسِهِمْ : بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا۔زیر باب روایت (۶۳۵۲) میں جس بچے سائب بن یزید ) کا ذکر ہے یہ ۲ھ میں پیدا ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے واپس تشریف لائے سائب بن یزید بھی بچوں کے ساتھ ثنیہ الوداع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کرنے گئے۔صحابہ میں ان کے علاوہ سائب بن یزید نام کا اور کوئی صحابی نہیں ہے مگر سائب نام کے (جن کی ولدیت مختلف ہے) ہیں صحابہ ہیں۔حضرت سائب بن یزید کے ایک آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر کے جس حصہ پر ہاتھ پھیر تھا اس حصہ کے بال آخر عمر تک سیاہ رہے۔ان کی وفات ۸۴ سال کی عمر میں ہوئی۔روایت (۶۳۵۳) میں ابو عقیل کا ذکر ہے۔ان کا نام زہرہ بن معبد ہے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت نصیب ہوئی۔روایت نمبر (۶۳۵۴) میں جس بچے کا ذکر ہے وہ حضرت محمود بن ربیع بن سراقہ خزر جی تھے۔اس وقت ان کی عمر پانچ سال تھی جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔انہیں یاد تھا جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت و شفقت سے ازراہ مزاح ان پر کلی کا پانی پھینکا۔انہوں نے 99ھ میں وفات پائی۔روایت نمبر (۶۳۵۶) میں عبد اللہ بن ثعلبہ بن ضعیر کا ذکر ہے۔یہ ہجرت سے چار سال پہلے پیدا ہوئے۔۸۹ھ میں ان کی ۹۳ سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ایک قول کے مطابق یہ ہجرت کے بعد پیدا ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر ۴ سال تھی۔(عمدة القاری جزء ۲۲ صفحہ ۳۰۷) زیر باب احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس و مبارک وجود کی برکات کے چند نمونے پیش کئے گئے۔خدا تعالٰی اپنے برگزیدہ نبیوں کو جو برکات عطا کرتا ہے اس کے ذکر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایسا ہی اُنکے ہاتھوں میں اور پیروں میں اور تمام بدن میں ایک برکت دیجاتی ہے جس کی وجہ سے اُن کا پہنا ہوا کپڑا بھی متبرک ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات کسی شخص کو چھونا یا اُس کو ہاتھ لگانا اس کے امراض روحانی یا جسمانی کے ازالہ کا موجب ٹھہرتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۹) بَاب ۳۲: الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رحمت خاص کی دعا کرنا ٦٣٥٧: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۶۳۵۷: آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا التوضيح لشرح الجامع الصحيح، جزء ۲۹ صفحه ۲۸۴ تا ۲۸۷)