صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 79
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۹ ٨٠ - كتاب الدعوات حَاتِمٌ عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جعد بن قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ عبد الرحمن سے روایت کی۔ جعد نے کہا: میں نے ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى رَسُولِ الله حضرت سائب بن یزید سے یزید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا میری خالہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! میر ابھانجا بیمار رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ ہے۔ تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھ فَمَسَحَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ کو برکت کی دعادی۔ پھر آپ نے وضو کیا اور میں تَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ثُمَّ قُمْتُ نے آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی پیا۔ پھر میں آپ إِلَى خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِهِ کی پیٹھ کے پیچھے کھڑا ہوا را ہوا اور آپ کی مہر کو دیکھا جو بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ۔ آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان ڈولی کی گھنڈی کی طرح تھی۔ أطرافه: ١٩٠، ٣٥٤٠، ٣٥٤١، ٥٦٧٠۔ ٦٣٥٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۳۵۳ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي (عبد الله ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ سعید بن ابی أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُقَيْلٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ ایوب نے ہم سے بیان کیا۔ سعید نے ابو عقیل سے بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ هِشَامٍ مِنَ السُّوقِ روایت کی کہ اُن کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشائم - أَوْ إِلَى السُّوقِ - فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ اُن کو بازار سے یا (کہا) بازار لے جایا کرتے تھے اور اناج خریدتے اور حضرت ابن زبیر اور فَيَلْقَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ عُمَرَ فَيَقُولَانِ حضرت ابن عمر ان سے ملتے اور کہتے : ہمیں بھی شریک أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لئے وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَيُشْرِكُه برکت کی دعا کی ہے۔ چنانچہ وہ ان کو بھی شریک فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ فَيَبْعَثُ کر لیتے۔ تو کبھی (حضرت عبداللہ بن ہشام) ایک بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ۔ طرفه: ٢٥٠٢ - اونٹنی ویسی کی ویسے لدی ہوئی نفع میں پاتے اور اس کو گھر بھیج دیتے۔ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں فيُقرِ كُهُم “ ہے۔ ( فتح الباری جزءا احاشیہ صفحہ ۱۸۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔