صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 78
صحیح البخاری جلد ۱۵ LA ۸۰ - كتاب الدعوات والا اور بد انجام کی طرف لے جانے کا موجب بن سکتا ہے تو اس کو یہ دعا کرنی چاہیے: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الحَيَاةُ خَيْرًالي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الوفاة خيرایی ( صحیح بخاری، روایت نمبر ۶۳۵۱) اے اللہ مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہے اور مجھے وفات دے جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔شارحین نے قرآن کریم میں حضرت یوسف" کی دعا تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَ الْحِقْنِي بِالصَّلِحِينَ (یوسف: ۱۰۲) اور حضرت سلیمان کی دعادَ أَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ (النمل: ۲۰) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اللهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى یعنی اے اللہ ارفیق اعلیٰ کے پاس سے سے یہ استنباط کیا ہے کہ ان برگزیدہ وجودوں نے بھی تو موت کی دعا کی اور ان حوالہ جات سے زیر باب حدیث کو منسوخ قرار دیا ہے۔(فتح الباری، کتاب المرضى، باب تمنى المريض الموت، جزء ۰ ۱ صفحه (۱۶۱) اسے قلت تدبر کہیں یا حقیقت الا مر کو نہ سمجھنے کی وجہ کہیں لیکن دراصل یہ قیاس مع الفارق ہے۔ان برگزیدہ وجو دوں کی جن دعاؤں کا ذکر ہے وہ خاتمہ بالخیر اور ارفع و اعلیٰ مقام پانے کی دعا ہے نہ کہ تکالیف سے تنگ آکر موت کی۔ایک شخص نے کمزوریوں سے تنگ آکر حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط لکھا اور موت کی خواہش کا اظہار کیا۔آپ نے جواب میں فرمایا: ”آپ ہمیشہ ہر مجلس میں اکثر اوقات استغفار، لاحول، درود، الحمد پڑھا کرو۔یہ مجرب علاج ہے۔آپ جب تک ملا نہ کریں گے یہ کمزوری دور نہ ہوگی۔إِلَّا أَن يَشَاءَ اللہ کبھی اپنے حق میں بد دعا نہ کرو تاکید ہے۔اللہ تعالیٰ پر کسی کا احسان نہیں جب دُعا کرو نیک کرو۔اگر وہ سنتا ہے تو کیا بد دُعا ہی سنتا ہے اور نیک دُعا نہیں سنتا۔“ ارشادات نور، جلد ۲ صفحه ۴۶ ،۴۷) بَاب :۳۱: الدُّعَاءُ لِلصَّبْيَانِ بِالْبَرَكَةِ وَمَسْحُ رُءُوسِهِمْ بچوں کے لئے برکت کی دعا کرنا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرنا وَقَالَ أَبُو مُوسَى وُلِدَ لِي غُلَامٌ وَدَعَا اور حضرت ابو موسیٰ نے کہا: میرے ہاں لڑکا پیدا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ ہوا اور نبی صلی ہم نے اس کو برکت کی دعادی۔٦٣٥٢: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ۶۳۵۲: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع " مجھے فرمانبردار ہونے کی حالت میں وفات دے اور مجھے صالحین کے زمرہ میں شامل کر۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور تُو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں داخل کر۔“ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب دُعَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، روایت نمبر ۱۳۴۸)