صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 77 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 77

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۷ ٨٠ - كتاب الدعوات اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ فَسَمِعْتُهُ قيس بن ابی حازم) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں يَقُولُ لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے کہا: میں حضرت خباب کے پاس آیا اور انہوں وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ تَدْعُوَ بِالْمَوْتِ نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوائے تھے۔ میں نے اُن سے سنا۔ وہ کہتے تھے: اگر نبی صلی اللہ علیہ لَدَعَوْتُ بِهِ۔ وسلم نے ہمیں مرنے کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور یہ دعا کرتا۔ أطرافه: ٥٦٧٢ ، ٦٣٤٩ ، ٦٤٣٠، ٦٤٣١، ٧٢٣٤۔ ٦٣٥١ : حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا ۱۳۵۱: (محمد) ابن سلام نے ہم سے بیان کیا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ که اسماعیل بن علیہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عبد العزیز بن صہیب سے ، عبدالعزیز نے حضرت قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی تکلیف کی وجہ سے جو اُسے ہوتی ہو موت لِضُرٍ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا کی دعا نہ کرے۔ اور اگر اس نے لاچار موت کی لِلْمَوْتِ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا آرزو ہی کرنی ہے تو یوں کہے: اے اللہ مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لئے بہتر ہو اور كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي۔ أطرافه: ٥٦٧١، ٧٢٣٣- مجھے وفات دے جب وفات میرے لئے بہتر ہو۔ تشريح : الدُّعَاءُ بِالْمَوْتِ وَ ا بِالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ: مرنے یا جینے کی دعا کرنا۔ موت اور زندگی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کوئی انسان نہ اپنے وجود کو پیدا کرنے کا اختیار رکھتا ہے نہ ختم کرنے کا اس لئے خود کشی منع ہے کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے وہ جب چاہے یہ امانت واپس لے لے اسی لئے کسی کی بھی موت پر انسان کو یہ کہنے کا حکم ہے : انا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ۔ یعنی ہم (تو) اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے و والے ہیں۔ جہاں تک زندگی کے فتنوں اور تکالیف سے تنگ آکر موت کی دعا کرنے کا تعلق ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ جو شخص بیماری اور تکلیف میں راضی برضا رہتے ہوئے صبر کرتا ہے تو یہ بیماری اس کے گناہوں کے گند دھونے، اسے پاک کرنے اور اعلیٰ مدارج میں بڑھانے کا باعث بنے گی لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ اس کے لئے یہ فتنہ اور تکلیف اس کے ایمان کو ضائع کرنے