صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 76 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 76

صحیح البخاری جلد ۱۵ 24 ۸۰- كتاب الدعوات ذکر الہی مختلف پھل بن کر آپ کے سامنے متمثل ہو گا۔ذکر الہی سے جو پھل پھوٹیں گے وہ کچھ لذتیں محسوس کرنے کی صلاحیتیں آپ کو عطا کریں گے اور ان لذتوں سے پھر آپ کی روحانی نشو و نما کا سلسلہ شروع ہوگا اور بالآخر جب یہ لذتوں کا حصول اپنے کمال کے درجے تک پہنچے گا تو آخری لذت آپ کو سوائے رب کے کسی چیز میں نظر نہیں آئے گی۔یہ ہے ذکر الہی جس کی طرف میں آپ کو بلا رہا ہوں، جس کی طرف قرآن آپ کو بلاتا ہے۔جس کے اسلوب اور انداز ہمیں خود اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہونے والے نور میں بیان فرمائے اور روشن کئے۔جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں جلوہ گر ہوا یہ وہ ذکر الہی ہے جو وہ آپ کی روحانی تخلیق کرتا ہے اور آپ خلق آخر میں داخل ہو جاتے ہیں۔“ خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۲۱ جنوری ۱۹۹۴، جلد ۱۳، صفحه ۵۳تا۵۵) باب ۳٠: الدُّعَاءُ بِالْمَوْتِ وَالْحَيَاةِ مرنے یا جینے کی دعا کرنا ٦٣٤٩: حَدَّثَنِي مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۳۴۹: مدد نے مجھ سے بیان کیا کہ بچی (بن يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل أَتَيْتُ حَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا قَالَ (بن ابي خالد ) سے ، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم) لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں حضرت خباب وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَّدْعُوَ بِالْمَوْتِ کے پاس آیا اور انہوں نے سات داغ لگوائے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ لَدَعَوْتُ بِهِ۔علیہ وسلم نے ہمیں مرنے کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور یہ دعا کرتا۔أطرافه: ٥٦۷۲ ٦٣٥٠ ، ٦٤٣٠، ٦٤٣١، ٧٢٣٤۔٦٣٥٠: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۶۳۵۰: محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ ( بن سعيد قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ بن ابي خالد ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: