صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 75 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 75

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۷۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اس کی زندگی کی ساری کہانی اس مضمون کی صداقت پر گواہ بن چکی ہو۔محض حرفوں اور لفظوں میں یہ بات نہ کہی جائے بلکہ ساری زندگی کے مضمون اس کے پیچھے اس کا گواہ بن کے کھڑا ہو۔جس طرح حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا خلاصہ یہ تھا کہ اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اے میرے اللہ میں تیری ذات میں لوٹنا چاہتا ہوں۔پس یہ قطرہ جس کا سفر ایک لامتناہی سمندر سے شروع ہو ا تھا جب شعور کی منازل طے کرنے کے بعد عشق کی منازل طے کرتا ہوا واپس اپنے مرجع کے طرف لوٹنے کی تمنا رکھتا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو پھر اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کی کامل تصویر بن کر ہمیں اپنے خدا کی طرف لے جاتا ہے اور یہ واپس لوٹنا در اصل اعلیٰ جنت ہے۔فَادْخُلى في عبدِي وَادْخُلِي جَنَّت ( الفجر : ۳۱۳۳۰) اس جنت کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی۔جو نسبتا کم درجہ کی جنتیں ہیں ان کے اندر آپ باغوں کے ذکر پڑھیں گے، پھلوں کے ذکر پڑھیں گے، بڑے بڑے باغوں کے قصے ہوں گے۔جنت میں نہریں بہہ رہی ہوں گی لیکن ایک اعلیٰ جنت ہے جو محمد رسول اللہ صلی امی کی جنت اور آپ کی غلامی میں پید اہونے والے عباد کی جنت ہے۔اس کی تفصیل خدا نے کوئی بیان نہیں فرمائی کیونکہ وہ ایک ایسی اعلیٰ جنت ہے جس کی کوئی تمثیل ہی نہیں ہے۔فرماتا ہے میں آواز دوں گا ان لوگوں کو جو میری طرف آرہے ہوں گے۔يَآيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْنَةُ ارجعي إلى ربّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ ( الفجر : ۲۸ ۲۹) اے وہ نفس جو مجھ سے مطمئن ہو گیا ہے۔جو ساری زندگی کے سفر کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ میرا اطمینان، میرا سکون خالصہ اللہ ہی میں ہے اور کوئی چیز نہیں ہے جو مجھے کامل طمانیت بخش سکے۔يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبَّكِ تو تھک گیا ہے لمبے سفر سے۔ارجعی الی ريك اپنے رب کی طرف اب لوٹ آ۔فَادْخُل فِي عَبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي پس میرے عباد میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔اب باقی جنتیں چاہے کیسی دلکش اور حسین دکھائی دیں، کیسی کیسی تفصیل ان کی نظر آئے ، مگر جو میری جنت اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے۔یہ کوئی اور ہی چیز ہے اور یہ ہی وہ جنت ہے جو رفیق اعلیٰ کی جنت ہے۔پس اس عظیم سفر کی تیاری کریں اور اپنی جنتیں خود بنائیں اور یہ جنتیں ذکر الہی سے بنیں گی۔