صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 73
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب تعالیٰ کی دی گئی Technology کی بدولت انسانی زندگی کے بچانے میں کام آرہی ہے۔موجودہ دہ تحقیق نے اونٹ کے پیشاب میں چند اجزاء انسانی صحت کے لئے مفید پائے ہیں اور ان میں خصوصی طور پر دل کے امراض (Antioxidant Antiplatelet,Antithrombotic اور Antifibrinolytic) اور کینسر کے علاج میں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: شکل یا عرینہ قبیلہ کے کچھ لوگ مدینہ میں آئے اور وہ بظاہر اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد انہوں نے ظاہر کیا کہ مدینہ کی آب و ہوا اور خوراک ان کے ناموافق ہے اور وہ بیمار ہو گئے ہیں۔انہوں نے اونٹوں کا مطالبہ کیا: قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ ابْغِنَا رِ سُلا ہمیں اونٹوں کے دودھ پینے کی عادت ہے۔عرب لوگ بعض بیماریوں کا علاج اونٹ کے پیشاب اور دودھ سے کیا کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں۔مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ایسا بخار ہوا تھا جس سے ان کے پیٹ پھول گئے تھے۔چہروں کے رنگ زرد پڑ گئے تھے۔ان کے جسم بھی لاغر ہو گئے تھے۔انہوں نے اپنے علاج کے لئے اونٹنیاں مانگیں۔آپؐ نے فرمایا: میرے پاس یہاں تو کوئی اونٹ نہیں۔صدقہ کے اونٹ سے میل کے فاصلہ پر ہیں، وہاں چلے جاؤ۔چنانچہ وہ وہاں گئے اور جب اچھے ہو گئے تو وہ اونٹ ہانک کر لے گئے اور آپ کے چرواہے نے جس کا نام بیسار تھا، ان کا تعاقب کیا تو انہوں نے اس کو پکڑ کر مار ڈالا۔نہ صرف مار ڈالا بلکہ پہلے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے اور اس کی آنکھوں اور اس کی زبان میں کانٹے چھو چھو کر چھلنی کر دیا اور اس طرح سخت اذیت دے کر اس کو ہلاک کیا۔اس وقت تک عرب کے عام رواج کے مطابق قصاص کے قانون پر عمل درآمد ہوتا تھا۔اس لئے ان سے وہی سلوک کیا گیا۔(1) Abdulqader Alhaidar, Abdel Galil M۔, Abdel Gader, and Shaker A۔Mousa: The antiplatelet activity of camel urine۔The Journal of Alternative and Complementary Medicine, Vol۔17, No 9, (29 Aug 2011)۔۔https:// doi۔org/10۔1089/ Acm۔2010۔0473 MD Arthur A, Sasahara Urokinase-Past, present, and future۔Techniques in Vascular and Interventional Radiology۔Vol۔1, Issue 4, pages: 170-178, (December 1998)۔Doi: https://doi۔org/10۔1016/S1089-2516(98)80223-0