صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 74
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۴ ۷۶ - كتاب الطب بعد میں جب إِنَّمَا جَزَوْا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ (المائدۃ: ۳۴) کی آیت نازل ہوئی تو ایسی سزاؤں کی ممانعت کر دی گئی اور یہ واقعہ شرعی حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ کفر بھی ایک جرم تھا مگر کفر وارتداد کی وجہ سے ان کو یہ سزا نہیں دی گئی۔“ صحیح بخاری ترجمه و شرح کتاب الوضوء باب ابوال الابل والدواب، جلد اول، صفحہ ۳۱۶ ) حضرت میر محمد اسحاق صاحب فرماتے ہیں: یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند مریضوں کو اونٹنیوں کا دودھ اور پیشاب پینے کے لیے کہا۔ اور وہ اس نسخہ پر عمل کرنے سے تندرست ہو گئے۔ اس سے ہماری تائید میں ایک مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہم کہتے ہیں جب کسی بیمار کی جان جانے کا خطرہ ہو اور ڈاکٹر اسے کوئی ایسی چیز استعمال کرنے کو کہے جو حلال نہ ہو۔ مثلاً شراب وغیرہ تو اس مریض کو ڈاکٹر یا حکیم کے کہنے پر عمل کر لینا چاہیے۔ مگر بعض کہتے ہیں کہ بے شک مریض مر جائے مگر کوئی ایسی چیز استعمال نہ کرائی جائے جو حلال نہ ہو۔ ہم پوچھتے ہیں کیا پیشاب حرام ہے یا حلال ؟ ہر شخص کے نزدیک پیشاب حرام چیز ہے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند بیماروں کو پینے کا حکم دیا۔ انہوں نے پیا اور صحت یاب بھی ہو گئے۔ پس ہمارے مخالف الخیال دوستوں کو چاہیے کہ اگر ہمارا خیال صحیح نہیں تو کوئی عقلی یا نقلی وجہ پیش کریں۔ جس سے ثابت ہو کہ پیشاب جو بلاشبہ ایک حرام چیز ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بیماروں کو پینے کی کیوں اجازت دی؟ بلکہ حدیث میں تو آمرھم آیا ہے کہ حضور نے ان کو حکم دیا۔ پھر ہماری تائید میں قرآن کریم ہے جو کہتا ہے کہ وقت ضرورت سور جیسی حرام چیز بھی کھا لینے میں حرج نہیں اور ہمارے مخالف الخیال بھی قرآنی حکم کے ماتحت اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ پس جب ایسے موقعہ پر جان جان بچانے - نے کے لیے کتا، ر خون کھا لینا بھی جائز ہے تو مرتے ہوئے انسان کی جان بچانے کے لیے اگر سور اور خون