صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 72 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 72

صحیح البخاری جلد ۱۴ سَمَرَ أَعْيُنَهُمْ۔٧٦ - كتاب الطب لے گئے۔یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے۔ان کو لایا گیا اور آپ نے ان کے جرم کے بدلے) اُن کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا ڈالے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھر وائیں۔قَالَ قَتَادَةُ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ قتادہ نے کہا: مجھے محمد بن سیرین نے بتایا کہ یہ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْحُدُودُ واقعہ شرعی سزائیں نازل ہونے سے پہلے ہوا تھا۔أطرافه ۲۳۳ ۱۹۰۱ ،۳۰۱۸، ۱۹۲ ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ۵۷۲۷، ۶۸۰۲، ۶۸۰۳، -٦٨٠٤ ٦٨٠٥، ٦٨٩٩ تشریح : الدَّعَاءُ بِأَبْوَالِ الْإِيلِ: اونٹوں کے پیشاب سے علاج کرنا۔زیر باب روایت میں جس واقعہ کا ذکر ہے تاریخی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک خاص موقع کی بات ہے عام دستور نہیں تھا۔اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اس نوعیت کا علاج نہیں بتایا اور نہ کسی صحابی سے اس نوعیت کا علاج کرنا منقول ہے۔گو یہ ایک استثنائی صورت ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل بھی خالی از فائدہ نہیں۔زیر باب روایت نمبر ۵۲۸۶،۵۶۸۵ کے حوالہ سے مکرم و محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود الحسن نوری صاحب ایڈ منسٹریٹر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ لکھتے ہیں: مندرجہ بالا علامتیں Hepatitis یعنی جگر کے یرقان کی ہیں۔اور اونٹنی کے دودھ اور پیشاب میں اس بیماری کے علاج میں موجودہ تحقیق نے فائدہ بتایا ہے (یعنی ان میں (Recombinant DNA Technology) کے ذریعہ سے) اس لئے یہ بعید از قیاس بات نہیں کہ ان مریضوں کے لئے اونٹنی کا دودھ اور پیشاب استعمال کیا ہو۔اور جس طرح اس حدیث میں کہا گیا ہے محض ایک دوا کے طور پر استعمال کرایا گیا ہو۔لیکن یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے پیشاب میں بھی ایک ایسا جزو ہے جو Heart Attack یعنی دل و دیگر شریانوں کی رکاوٹ میں استعمال ہوتا ہے۔اس کو Urokinase کہتے ہیں۔اور اب اس کا Chemical structure معلوم کر کے Genetic Engineering کے ذریعہ تیار کی گئی دوائی ماہرین، دل یا انسانی جسم کے دیگر اعضاء کی شریانوں کی رکاوٹ میں استعمال کر رہے ہیں۔اس لئے جس حقیقت کی طرف آپ نے چودہ سو سال پہلے ذکر فرمایا وہ آج (جو چند لوگوں کی کراہت کے باوجود ) موجودہ اللہ (1) Osama A۔Alkhamees and Saud M۔Alsanad: A review of the therapeutic characteristics of camel urine۔Afr J Tradit Complement & Altern Med, 14 (6) : 120-126 (2017)۔https://doi۔org/10۔21010/ajtcam۔v14i6۔12