صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 69 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 69

صحیح البخاری جلد ۱۴ ५१ ۷۶ - كتاب الطب حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شہد کی مکھی کے متعلق عجیب معلومات ہیں جو آج تک دریافت ہوتی ہیں۔ جب ادنی سے ادنی وحی کے متعلق ایسے عجیب عجیب کام ہیں تو پھر انبیاء کی وحی کے ماتحت کیا کیا کام ہو سکتے ہیں۔ و ہو سکتے ہیں۔ وہ ان کے کارناموں سے ظاہر ہیں۔ ( حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۴۸۸) مختلف الوانه: عربوں نے چار سو قسم شہد کی معلوم کی ہے کیونکہ اس کے لیے زبان عربی میں چار سو مختلف نام ہیں۔“ (حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۴۸۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ذیا بیطس کی تکلیف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے مجھے سخت تکلیف تھی۔ ڈاکٹروں نے اس میں شیرینی کو سخت مصر بتلایا ہے۔ آج میں اس پر غور کر رہا تھا تو خیال آیا کہ بازار میں جو شکر وغیرہ ہوتی ہے اسے تو اکثر فاسق فاجر لوگ بناتے ہیں اگر اس سے ضرر ہوتا ہے تو تعجب کی بات نہیں۔ مگر عسل (شہد) تو خدا تعالیٰ کی وحی سے تیار ہوا ہے۔ اس لیے اس کی خاصیت دوسری شیرینیوں کی سی ہر گز نہ ہوگی۔ اگر یہ ان کی طرح ہوتا تو پھر سب شیرینی کی نسبت شِفَاء لِلنَّاسِ فرمایا جاتا۔ مگر اس میں صرف عسل ہی کو خاص کیا ہے۔ پس یہ خصوصیت اس کے نفع پر دلیل ہے اور چونکہ اس کی تیاری بذریعہ وحی کے ہے اس لیے لکھی جو پھولوں سے رس چوستی ہو گی تو ضرور مفید اجزاء کو ہی لیتی ہو گی۔ اس خیال سے میں نے تھوڑے سے شہر میں کیوڑا ملا کر اُسے پیا تو تھوڑی دیر کے بعد مجھے بہت فائدہ حاصل ہوا۔ حتی کہ میں نے چلنے پھرنے کے قابل اپنے آپ کو پایا اور پھر گھر کے آدمیوں کو لے کر باغ تک چلا گیا۔“ بَابه : الدَّوَاءُ بِأَلْبَانِ الْإِبِلِ اونٹنیوں کے دودھ سے علاج کرنا ملفوظات جلد ۴ صفحه ۱۹۱، ۱۹۲) ٥٦٨٥ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۵۶۸۵ : مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ سلام حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ أَبُو نُوحٍ بن مسکین ابو نوح بصری نے ہم سے بیان کیا کہ