صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 68
صحیح البخاری جلد ۱۴ YA ٧٦ - كتاب الطب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” اب اس کی تحقیقات ہوئی ہے اور پتہ لگا ہے کہ شہد کی مکھی جس قسم کے درختوں سے شہد لیتی ہے اسی قسم کا فائدہ اس شہد سے پہنچتا ہے۔مثلاً بعض جگہ شہد کی مکھی ایسے درختوں سے شہد لیتی ہے جن میں جلاب کا مادہ ہوتا ہے وہ شہد کھاؤ تو جلاب لگ جاتے ہیں۔بعض ایسی بوٹیوں سے لیتی ہیں جو ملیریا کو دور کرنے والی ہوتی ہیں وہ شہد کھاؤ تو ملیریا کو فائدہ پہنچتا ہے۔غرض مختلف قسم کے شہد مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج ہیں۔اسی لیے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ شہد میں فائدہ ہے بلکہ فرمایا ہے اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٌ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔ہم نے تو اشارہ کر دیا ہے۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم تحقیقات میں لگو۔اگر تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو گا کہ مختلف رنگ کے شہد مختلف امراض کا علاج ہیں۔چنانچہ جب میں علاج کے سلسلہ میں لندن گیا تو ایک بڑے خاندان کی ایک استانی تھیں لارڈ ارون جو ہندوستان کے وائسرائے رہ چکے ہیں ان کی ماں سے اس کی ماں کی بڑی دوستی تھی۔کہتی تھی کہ اس کے کئی خط میرے پاس اب تک پڑے ہیں۔ایک دن وہ شہد لے کر آئی جو خاص بوٹیوں میں سے نکلا ہوا تھا اور کہنے لگی یہ شہد آپ استعمال کریں یہ آپ کے لیے بہت مفید ہے۔میں نے کہا مجھے تو شہد موافق نہیں۔کہنے لگی آسٹریلین شہر تو معلوم نہیں کس کس چیز کا ہوتا ہے مگر یہ تو ہمارے ہاں بعض لوگ خاص طور پر ان بوٹیوں سے بناتے ہیں جو امراض کے علاج میں خاص طور پر مفید ہیں۔اسی طرح ہمارے پرانے اطباء لکھتے ہیں کہ آم اور پھر خاص قسم کے آموں کا شہد لیا جائے تو وہ دل کی تقویت کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح بعض اور امراض میں بھی مفید ہوتا ہے۔تو شہد بیشک مفید ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ شہد کے فوائد کا صرف اسی کو پتہ لگے گا جو تفکر کرنے والا ہے۔مطلب یہ ہے کہ مختلف شہد مختلف بیماریوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔یہ علم طب کا کتنا عظیم الشان باب ہے جو قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت کے ذریعہ کھول دیا گیا ہے۔“ سیر روحانی نمبر ۹، انوار العلوم جلد ۲۵ صفحه ۲۶۵،۲۶۴)