صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 67 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 67

٧٦ - كتاب الطب ۶۷ صحیح البخاری جلد ۱۴ have discovered to their amazement is its ability to cure such eye sores as were otherwise considered incurable۔Many a patient has been saved from total blindness by its application۔'Patients with ulcerous blepharitis and blepharo-conjunctivitis, under the influence of honey experienced that the itch and a sensation of sand in the eye disappeared; reddening of conjunctivas reduced or disappeared, ulcers of eye-lids edges, epithelisation of erosions and ulcers reduced in the duration of the treatment۔With patients suffering from ray dystrophic a result of honey treatment, corneal processes, as epithelisation improved, photophobia disappeared and sight improved۔(Revelation, Rationality, Knowledge and Truth, The 'Blind Watchmaker' Who is Also Deaf And Dumb Pages 552, 553) ا جہاں تک شہد کی صحت بخش صفات کا تعلق ہے تو یہ ایک جاری و ساری تحقیق ہے اور وہ محققین جو پہلے ہی اس کی حیرت انگیز خوبیاں دریافت کر چکے ہیں ابھی مزید بہت سی خوبیوں کی دریافت کی توقع رکھتے ہیں۔میڈیکل سائنس کی اب تک کی دریافت کا خلاصہ کچھ یوں ہے: ” فی الحال شہر جن بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہو رہا ہے ان میں آنتوں کی تکالیف اور دل کی بعض بیماریاں اور پھیپھڑوں، گردوں، جلد، اعصاب، ناک، کان اور گلے کی انفیکشن، عورتوں کے اعضائے تولید اور رحم کی بیماریاں شامل ہیں۔شہد میں شفا کی ایک تاثیر جس کی دریافت سے برطانوی سائنسدان حیران رہ گئے وہ اس کی آنکھوں کے ایسے زخموں کو ٹھیک کر دینے کی صلاحیت ہے جو اس سے قبل لا علاج سمجھے جاتے تھے۔اس کے استعمال سے بہت سے مریض مکمل نابینا پن سے بچائے جاچکے ہیں۔جن مریضوں کی آنکھوں میں زخم یا ککرے تھے انہوں نے شہد کے استعمال کے بعد محسوس کیا کہ ان کی آنکھوں میں چھن اور ریت کی رڑک کا احساس جاتا رہا۔اندرونی جھلی کی سرخی کم ہو گئی یا بالکل ختم ہو گئی پوٹوں کے کناروں کے زخم علاج کے دوران مندمل ہو نا شروع ہو گئے اور ایسے مریض جن کی آنکھوں میں روشنی کی تاب نہ رہی تھی شہد کے مسلسل استعمال سے ان کی آنکھ کی بیرونی جھلی بہتر ہو نا شروع ہو گئی اور ان کی بصارت بھی بہتر ہو گئی۔“ ر الہام عقل، علم اور سچائی، وقت کا اندھا، بہرہ اور گونگا خالق،صفحہ ۴۸۴، ۴۸۵)