صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 66 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 66

۶۶ ٧٦ - كتاب الطب صحیح البخاری جلد ۱۴ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں شہر آنتوں رگوں اور جسم کے زائد فضلات کو صاف کرتا ہے۔معدہ جگر ، گردوں اور مثانہ کو مضبوط کرتا ہے۔کھانسی میں مفید ہے۔ٹھنڈے اور بلغمی مزاج والوں کے لیے مفید ہے۔شہد غذا بھی ہے اور دوا بھی۔شہر میں گوشت اور پھل رکھے جائیں تو تین ماہ تک ان کی تازگی بر قرار رہتی ہے۔جو ؤں کو مارتا ہے بالوں کو خوبصورت اور ملائم بناتا ہے۔آنکھوں کو جلا بخشتا ہے۔دانتوں کو چمکاتا ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۰، صفحہ ۱۷۳) حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی تحریر فرماتے ہیں: "" بیماری کے ایام میں حکیم غلام محمد صاحب امرتسری جو حکیم قطب دین صاحب کی طرح حضرت حکیم الامۃ کے پاس بطور کمپونڈر خدمات بجالاتے تھے مجھے دوائی پلانے کے لیے باقاعدہ آتے۔ایک دن آپ تشریف لائے تو ایک بہت بڑی بوتل جو طوطے کی طرح سبز رنگ کی شہد سے بھری ہوئی تھی۔میرے لیے لائے اور کہا کہ نجیب آباد سے ایک دوست تین بوتلیں سبز رنگ کے شہد کی سید نا حضرت خلیفہ المسیح کے حضور تحفہ لایا تھا اور اس نے بتایا تھا کہ یہ شہد نیم کے درختوں پر سے اُتاری گئی ہے۔حضرت نے فرمایا کہ یہ شہد مولوی راجیکی صاحب کے لیے مفید ہے اور آپ کے لیے بھجوا دی۔میں نے یہ شہد استعمال کیا اس کا ذائقہ کسی قدر تلخی لیے ہوئے تھا اس کے استعمال سے بھی مجھے کسی قدر فائدہ ہوا۔“ حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حیات قدسی جلد سوم صفحه ۲۰۸) "As far as the curative properties of honey are concerned, this is an ongoing research and the researchers who have already discovered some wonderful things about it are expecting far more yet to be revealed۔Whatever medical science has identified so far is summed up in the following: 'Currently, honey treatment is used for gastrointestinal, some cardiovascular, pulmonary, renal, skin, and neural diseases of the oral cavity, ear, throat, nose inflammatory affection of female genitals, and of the cervix of the uterus۔' One healing quality of honey which British scientists