صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 65
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۵ ٧٦ - كتاب الطب الدَّاءَ وَمَا أُحِبُّ أَنْ أَكْتَوِيَ۔موافق پڑے اور میں پسند نہیں کرتا کہ داغ لگاؤں۔أطرافه: ٥٦٩٧، ٥٧٠٢، ٥٧٠٤۔٥٦٨٤ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ۵۶۸۴: عباس بن ولید نے ہمیں بتایا کہ عبد الا علیٰ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ نے ہم سے بیان کیا۔سعید ( بن ابی عروبہ) نے ہمیں قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكَّلِ عَنْ أَبِي بتایا۔سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے ابو متوکل (ناجی) سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ سے، ابو متوکل نے حضرت ابو سعید خدری) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ آیا کہنے لگا میرے بھائی کو پیٹ کی شکایت ہے آپ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ پھر وہ آپ کے پاس فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ دوسری بار آیا آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ پھر وہ فَقَالَ اسْقِهِ عَسَلًا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ تیری مر تبہ آیا آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ پھر فَعَلْتُ فَقَالَ صَدَقَ اللهُ وَكَذَبَ بَطْنُ وہ آیا اور کہنے لگا میں نے پلا دیا ہے، مگر اس کو أخِيكَ اسْقِهِ عَسَلًا فَسَقَاهُ فَبَرَأَ۔افاقہ نہیں ہوا۔) آپ نے فرمایا اللہ نے سچ فرمایا ہے اور تمہارے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ کہا طرفه: ٥٧١٦۔یخ ہے۔اس کو شہد پلاؤ تو اس نے اسے شہد پلایا تو اس کو شفا ہوئی۔الدواءُ بِالْعَسَلِ: شہد سے علاج۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فِيْهِ شِفَاءُ لِلنَّاسِ (النحل: ۷۰) یعنی شہر میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔شارحین نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا شہد میں ہر مرض کا علاج ہے۔اس کا ایک جواب یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لِكُلِ دَاءٍ دَوَاءُ فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ اللَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَل لے کہ ہر مرض کی دوا ہے جب وہ صحیح تشخیص کے ساتھ دی جائے تو مریض اللہ کے اذن سے شفا پائے گا۔یہی اصول شہد کے علاج کا ہے کہ جب تشخیص صحیح ہو اور اذنِ الہی ہو تو شفا ہو گی۔شہد اور مرض کی تشخیص کے لیے اس اصول کو مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ شہد کی ایک قسم نہیں بلکہ اس کی سینکڑوں قسمیں ہیں۔عربی میں شہد کے چار سو نام ہیں۔عربی کا یہ اصول ہے کہ جو نام کسی چیز کو دیا جاتا ہے اس میں وہ خصوصیت پائی جاتی ہے تو چار سوناموں کا مطلب ہے عربوں کے نزدیک شہر کی چار سو اقسام تھیں اور ہر قسم اپنی اپنی خصوصیت کی حامل تھی۔ا (صحیح مسلم، کتاب السلام ، باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاهُ )