صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 63
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۳ ٧٦ - كتاب الطب اور نہ اس میں شفا ہے بلکہ آپ نے اس حدیث میں علاج کی قسمیں بتائی ہیں کہ علاج تین قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) بعض علاج اس طرح کئے جاتے ہیں کہ ادویہ انسان کے جسم کے اندر پہنچائی جاتی ہیں۔اس میں پینے کی ادویہ اور سونگھنے والی اور انجکشن آ جاتا ہے۔(۲) بعض علاج اس طرح کئے جاتے ہیں کہ انسان کے جسم میں سے کچھ نکال دیا جاتا ہے جیسے مریض کا گندہ خون نکالا جاتا ہے، یا اسے قے کرا دی جاتی ہے یا گرمی پہنچا کر اسے پسینہ لایا جاتا ہے تاکہ مسام کھل جائیں اور جلد صاف ہو جائے۔(۳) اور بعض علاج انسان کے جسم کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان میں نہ مریض کے جسم کے اندر کوئی دوائی پہنچائی جاتی ہے اور نہ کوئی چیز جسم سے خارج کی جاتی ہے بلکہ صرف بیرونی جسم پر عمل کیا جاتا ہے۔جیسے کسی زخم پر پٹی لگوادی جاتی ہے یا نکور کی جاتی ہے یا کسی پھنسی وغیرہ کو تیز اب سے جلا دیا جاتا ہے جسے داغ لگانا کہتے ہیں۔اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل علاج کی یہ قسمیں بتائی ہیں کہ وہ تین ہیں اور پھر ہر قسم کی ایک ایک مثال دے دی ہے مثلاً علاج کی پہلی قسم یعنی دوا کا جسم کے اندر پہنچانا اس کی مثال شربت عسل سے دی ہے یعنی جیسے شہر کا پینا اور علاج کی دوسری قسم یعنی انسان کے جسم سے کچھ نکالنے کے ساتھ علاج کرانا۔اس کا نمونہ شرطة محجم کہہ کر بتایا ہے یعنی خون نکلوانا اور علاج کی تیسری قسم یعنی جسم پر عمل کرنا کی مثال گیت کار کہہ کر دی ہے یعنی آگ اور بعض دفعہ موجودہ زمانہ میں تیزاب) کے ساتھ داغ لگانا۔پس حضور نے اس حدیث میں علاج کی اقسام بتا کر ہر قسم کی ایک ایک مثال بیان فرمائی ہے۔پس ادویہ اور علاج پر انحصار نہیں بلکہ علاج کی اقسام میں انحصار ہے۔اب آپ دنیا کی کوئی مرض لے لیں اور پھر اس کے ہزار مختلف علاج کریں کوئی علاج ان تین قسموں میں سے باہر نہیں شمار ہو سکے گا۔یا وہ پہلی قسم کے علاجوں میں سے ہو گا۔یا دوسری قسم کے اور یا پھر تیسری قسم کے۔اس کے علاوہ کوئی اور چوتھی صورت ممکن ہی نہیں۔پس اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں رہتا بلکہ آپ کی صداقت کا ایک ثبوت بن جاتی ہے کہ آپ باوجود اُقی ہونے کے ایک ایسا کلیہ فرماتے ہیں کہ