صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 62 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 62

صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب صورت میں بیان کیا گیا ہے کیونکہ شہد مسہل ہوتا ہے۔لیکن بعض صورتوں میں فاسد مادہ نہ پچھنے یعنی جراحی سے نکلتا ہے نہ کسی مسہل دوائی سے باہر نکلتا ہے تو اسے جلایا جاتا ہے جسے گیةُ النَّار سے بیان کیا گیا ہے۔(فتح الباری، جزء ۱۰، صفحہ ۱۷۱ ۱۷۲) (عمدۃ القاری، جزء ۲ صفحه ۲۳۱) حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الشفاء فِي ثَلَاثَةٍ هُرْبَةُ عَسَلٍ وَشَرْطَةُ مِحْجَمٍ وَ كَيَّةُ نَارٍ وَأَنهَى أُمَّتِي عَنِ الكَيْ جس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ شفاء اور تندرستی تین چیزوں میں ہے۔(۱) شہد پینے میں (۲) کچھ لگوانے میں اور (۳) داغ لگوانے میں۔مگر میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں۔فرمایا بعض لوگ حدیث کے لفظی معنوں پر حیران ہو جاتے ہیں کہ دنیا میں ہزاروں چیزیں ہیں جن سے مریض شفا پاتے ہیں پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کس طرح فرمایا کہ شفا صرف تین چیزوں میں ہے۔فرمایا یہ حیرانی عدم تدبر کا نتیجہ ہے۔وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ حضور نے صحت اور تندرستی دینے والی چیزوں کا انحصار صرف ان تین چیزوں پر رکھا ہے۔حالانکہ یہ خیال جس طرح واقعات کے خلاف ہے۔اسی طرح حضور کے منشاء مبارک کے بھی خلاف ہے حضور کا ہرگز یہ منشاء نہیں کہ ان تین چیزوں کے سوا باقی کوئی چیز مفید نہیں اور حضور جیسا دانا یہ کہہ ہی کیونکر سکتا ہے۔ایک جاہل سے جاہل انسان سے بھی اگر پوچھا جائے کہ بیمار آدمی کو کیا کیا چیز صحت دینے میں محمد ہو سکتی ہے تو وہ بھی کم از کم چار پانچ چیزیں بتادے گا۔پس جب دنیا میں مختلف قسم کی بیماریاں اور مختلف قسم کے علاج ہیں اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مختلف بیماریوں کے علاج لوگوں کو بتاتے رہے اور وہ علاج ایسے تھے جو ان تینوں چیزوں کے سوا تھے۔کلونجی کی تعریف کی کہ اس میں ہر بیماری کا علاج ہے۔۔۔غرض احادیث سے ثابت ہے کہ حضور نے اکثر بیماریوں کے مختلف علاج بتائے اور وہ ایسے علاج تھے جو ان تینوں چیزوں کے سوا تھے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور کا اس کہنے سے ہر گز یہ منشاء نہیں تھا کہ ان تین چیزوں کے سوا اور کوئی دوا ہی نہیں ہے