صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 60 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 60

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۶۰ ٧٦ - كتاب الطب تشریح۔هَلْ يُدَاوِي الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَالْمَرْأَةُ الرَّجُلُ: کیا مرد عورت کا اور عورت مرد کا علاج معالجہ کرے۔امام بخاری نے عنوان باب لفظ کل سے شروع کیا ہے جس میں صورت استثنائی مد نظر ہے۔اسلام معمولات زندگی میں نامحرم مرد عورت کے اختلاط کو روا نہیں رکھتا مگر جہاں انسانی جان بچانے کا مسئلہ ہو وہاں اس پابندی کو اٹھانے کی اجازت دیتا ہے جیسا کہ حدیث الباب میں جنگ کے موقع پر خواتین کا مردوں کو پانی پلانے، مقتولوں اور زخمیوں کو مدینہ لانے اور ان کی خدمت کرنے کا ذکر ہے۔بخاری کی ہی ایک روایت (۲۸۸۲) میں ونداوى الجرعی' کے الفاظ ہیں یعنی ہم زخمیوں کا علاج کرتی تھی۔ان روایات میں ڈاکٹرز اور نرسز کے لیے ایک راہنما اصول بیان کیا گیا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کبھی مرد اس کو نکال سکتا ہے۔دین اسلام میں تنگی و حرج نہیں۔جو شخص خواہ مخواہ تنگی و حرج کرتا ہے ، وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔کوئی شخص مجھے یہ تو بتائے کہ پردہ میں نبض دکھانا کہاں منع کیا ہے۔“ (ملفوظات، جلد اول صفحہ ۱۷۱) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اگر کسی حاملہ عورت کی حالت ایسی ہو جائے کہ مرد ڈاکٹر کی مدد کے بغیر اُس کا بچہ پیدا نہ ہو سکتا ہو اور وہ ڈاکٹر کی مدد نہ لے اور اُسی حال میں مر جائے تو اس عورت کی موت خود کشی سمجھی جائے گی۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۳۴۶) بَاب ۳: الشَّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ تین چیزوں میں شفا ہے ٥٦٨٠: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا ۵۶۸۰ حسین ( بن محمد بن زیاد) نے مجھ سے بیان أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ کیا کہ احمد بن منبع نے ہمیں بتایا کہ مروان بن شُجَاعِ حَدَّثَنَا سَالِمُ الْأَفْطَسُ عَنْ شجاع نے ہم سے بیان کیا۔سالم افطس نے ہمیں سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ بتایا۔انہوں نے سعید بن جبیر سے ، سعید نے اللهُ عَنْهُمَا قَالَ الشَّفَاءُ فِي ثَلَاثٍ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔الصحيح البخارى، كتاب الجهاد والسير، باب مداومة النساء۔۔۔)