صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 59 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 59

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۹ ۷۶ - كتاب الطب علاج پالوگے۔ آپ کے اس حکم کے ماتحت مسلمانوں نے علم طب کی طرف توجہ کی اور بیسیوں بیماریوں کا علاج معلوم کر لیا۔ اور اب یورپ کے اطباء اس تعلیم کی صداقت کو ثابت کر رہے ہیں کہ مختلف لا علاج سمجھی جانے والی بیماریوں کا علاج تلاش کر رہے ہیں اور کئی بیماریوں کا علاج دریافت کر چکے ہیں۔ یہ تعلیم صرف امراض ہی کے متعلق نہیں بلکہ دوسری ضروریات کے متعلق بھی ہے اور اس اصل پر عمل کرنے والے ہمیشہ کامیابی کا منہ دیکھتے رہیں گے۔“ دنیا کا محسن، انوار العلوم، جلد ۱۰ صفحه ۲۸۳، ۲۸۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: میرا مذہب یہ ہے کہ کوئی بیماری لاعلاج نہیں۔ ہر ایک بیماری کا علاج ہو سکتا ہے جس مرض کو طبیب لا علاج کہتا ہے اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ طبیب اس کے علاج سے آگاہ نہیں ہے۔ ہمارے تجربہ میں یہ بات آچکی ہے کہ بہت سی بیماریوں کو اطباء اور ڈاکٹروں نے لاعلاج بیان کیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس سے شفا پانے کے واسطے بیمار کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال دی بعض بیمار بالکل مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ غلطی ہے۔ خدا تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیئے اس کے ہاتھ میں سب شفاء ہے۔ “ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۵۹) بَاب ٢ : هَلْ يُدَاوِي الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَالْمَرْأَةُ الرَّجُلَ کیا مرد عورت کا اور عورت مرد کا علاج معالجہ کرے ٥٦٧٩ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۵۶۷۹ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ بشر حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ خَالِدِ بن مفضل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد بن ذکوان بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ رُبَيِّعَ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ سے، خالد نے حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء عَفْرَاءَ قَالَتْ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ سے روایت کی وہ کہتی تھیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْقِي الْقَوْمَ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں لوگوں وَنَحْدُمُهُمْ وَنَرُدُّ الْقَتْلَى وَالْجَرْحَی کو پانی پلاتیں اور ان کی خدمت کرتی تھیں اور إِلَى الْمَدِينَةِ۔ أطرافه: ۲۸۸۲، ۲۸۸۳ مقتولوں اور زخمیوں کو مدینہ واپس لے جاتیں۔