صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 58
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۸ ٧٦ - كتاب الطب مريح : مَا أَنْزَلَ اللهُ دَا إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاء : اللہ نے ہربیماری کے ساتھ اس کی شفا بھی اتاری ہے۔ان الفاظ میں بیماری کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر عمل کا نتیجہ اللہ تعالی پیدا کرتا ہے۔در حقیقت اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی بلکہ ہر بیماری انسان کی بے اعتدالیوں، موسموں کی تبدیلیوں یا دیگر حوادث کا نتیجہ ہوتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حوالے سے فرمایا: وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ (الشعراء: (۸) اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو مجھے شفا دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مَا أَنزَلَ اللهُ دَاءَ إِلَّا أَنزَلَ لَهُ شِفَاء بیان فرما کر کہ ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تحقیق کا میدان ہمیشہ کے لیے کھول دیا ہے اور انسان کو امید اور جستجو کی ایسی منزل دکھا دی ہے کہ وہ پورے یقین کے ساتھ ہر بیماری کے علاج کی تحقیق کر کے اس کا علاج معلوم کر سکتا ہے مگر چونکہ انسان کا نہ علم کامل ہے نہ اس کی تحقیقات ہر آمر کا احاطہ کر سکتی ہیں اس لیے بہت سارے لوگ صحیح اور بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔تاہم اس سے یہ مفہوم مخالف بھی مراد نہیں لیا جا سکتا کہ اگر تحقیق اور تشخیص کا مل ہو جائے تو موت دنیا سے ختم ہو جائے جیسا کہ بعض لوگوں کا وہم ہے۔چونکہ انسان نہ عالم الغیب ہے نہ اسے خدا کی تقدیر پر دسترس ہے اس لیے یکات داء دواء کا مژدہ جاں فزا اُسے زندگی بچانے کی آخری لمحے تک کوشش اور جد وجہد پر آمادہ تو رکھتا ہے اور خضر راہ بن کر اس کے آگے آگے شمع امید جلائے چلتا رہتا ہے۔لیکن یہ امید اور تمنا خدا کی تقدیر پر غالب نہیں آسکتی جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالی فرمایا: لِكُنِ دَاءٍ دَوَاء فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الرَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللهِ عَزَّ وَجَل کہ بیشک ہر بیماری کی دوا اور علاج ہے۔جب بیماری کی تشخیص کے مطابق دوا بھی دے دی جائے تب بھی شفا اذنِ الہی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔یعنی آخر خدا کی تقدیر ہی غالب آئے گی۔اگر وہ دوائی کو اذن دے گا تو شفا ہو گی۔اور اگر خدا کی تقدیر دوسرے رنگ میں ظاہر ہو گی تو اسی کے مطابق نتیجہ نکلے گا اور تقدیر الہی اس اصل الاصول کے مطابق ظاہر ہو گی كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَإِن وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ ) (الرحمن: ۲۸،۲۷) اس (یعنی زمین پر جو کوئی بھی ہے آخر ہلاک ہونے والا ہے۔اور صرف وہ بچتا ہے جس کی طرف تیرے جلال اور عزت والے خدا کی توجہ ہو۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو ہر مرض کا علاج خدا تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے یہ تعلیم آپ نے اس وقت دی تھی جب کہ طب میں ہزاروں بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔اور آج بھی جب کہ طب اتنی ترقی کر گئی ہے۔اطباء کہتے ہیں کہ کئی بیماریوں کا کوئی علاج نہیں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں کوئی طبیب نہ تھا۔فرماتے ہیں کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دوا نہ ہو۔تجسس کرو ا (صحیح مسلم، کتاب السلام ، باب لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاء )