صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 57
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۷ ۷۶ - كتاب الطب کی ایجاد ہے، اس کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوا ہے کہ بہت سی بیماریاں نہایت باریک کیڑوں سے پیدا ہوتی ہیں اور جس وقت بیماری کی تشخیص مشکل ہو اس کے ذریعہ سے معلوم کر لیا جاتا ہے کہ کس مرض کے کیڑے انسان کے جسم میں پائے جاتے ہیں۔یا مثلاً خون کا امتحان ہے اس کے ذریعہ سے بھی تشخیص میں بہت سی مدد ملتی ہے یا پیشاب کے پرکھنے کے بہت سے طریق ہیں کہ جن کے ذریعہ بہت سی امراض کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ان کے علاوہ امریکہ کا ایک ڈاکٹر سان فرانسسکو میں ایک ایسا آلہ ایجاد کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے اور اس میں بہت حد تک کامیابی بھی ہو گئی ہے کہ جس سے مختلف مخفی امراض صرف اس آلہ کو مریض کے جسم سے لگانے سے معلوم ہو جایا کریں گی اور ان کے درجے بھی پتہ لگ جایا کریں گے۔غرض بہت سے طریق تشخیص ایسے ایجاد ہوئے ہیں کہ ان سے بیماریوں کا یقینی طور پر معلوم کرنا آسان ہو گیا ہے اور اس وجہ سے امراض کا علاج بھی بہت سہل ہو گیا ہے۔دنیا میں سچا مذ ہب صرف اسلام ہی ہے، انوار العلوم جلد ۱۳ صفحہ ۱۰۹ تا ۱۱) بَاب :١ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً اللہ نے ہر بیماری کے ساتھ اس کی شفا بھی اُتاری ہے ٥٦٧٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۵۶۷۸: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو احمد حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا ( محمد بن عبد اللہ ) زبیری نے ہمیں بتایا کہ عمر عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ بن سعید بن ابی حسین نے ہمیں بتایا، انہوں نے حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي کہا ہم سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا۔عطاء اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً ابوہریرۃ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: اللہ نے کوئی بھی بیماری نہیں اتاری إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً۔هُرَيْرَةَ رَضِيَ مگر ضرور اس کا علاج بھی اُتارا ہے۔