صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 56 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 56

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۶ ٧٦ - كتاب الطب کے نہ ملنے کی صورت میں آسانی سے بغیر کسی خاص علم کے محض کتاب دیکھ کر معمولی اور روز مرہ کی شکایات کا علاج کر سکے اور صرف ان بارہ معدنی اجزاء کے ذریعہ جن سے انسانی جسم بنا ہے، تمام بیماریوں کا علاج ممکن ہو گیا۔الیکٹرو ہو میو پیتھی کے طریق علاج نے طب کے دائرہ عمل کو اور بھی وسیع کر دیا ہے اور بنی نوع انسان کیلئے شفایابی کے دروازے کھول دیئے۔سائکو اپنی لیسز (Psychoanalysis) کے طریق علاج نے بہت ایسی امراض کے علاج کا دروازہ کھول دیا ہے جو فکر و خیال کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں اور جن کا علاج صرف دواؤں سے ہونا نا ممکن تھا۔علاج بالتوجہ اور توجہ ذاتی نے شفا کو انسان کے ایسا قریب کر دیا کہ گویا شفا حاصل کرنے کیلئے ارادہ کی دیر ہوتی ہے۔ارادہ کیا اور بہت سی شفا ہوئی۔ویکسین اور سیرم (Cerum) کی ایجاد نے علم طب میں ایک ایسا مفید اضافہ کیا ہے کہ اس کی قیمت کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہے۔درحقیقت اس طریق علاج سے ہزاروں لاکھوں مریضوں کو ہر سال ایسے رنگ میں آرام ہوتا ہے کہ اس پر عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سگ گزیدہ اور خناق اور کزاز وغیرہا کے علاج اور انفلوئنزا (Influenza) اور محرقہ وغیر ہ کے حفظ ما تقدم میں اس سے اس قدر مدد ملی ہے کہ اس پر جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر کیا جائے کم ہے۔بلحاظ زمانہ کے سب سے آخر میں لیکن بلحاظ اثر کے اعلیٰ درجہ کے طریقہ ہائے علاج میں سے آٹو ہیمک (Autohemic) طریق علاج کی ایجاد ہے۔جسے امریکہ میں ۱۹۱۰ء میں ڈاکٹر راجرز نے ایجاد کیا ہے۔اس طریق علاج کے ذریعہ خود بیمار کا خون چند قطرے لے کر اور خاص طور پر تیار کر کے مریض کے جسم میں پچکاری کے ذریعہ داخل کر کے تمام مزمن امراض کا علاج کیا جاتا ہے اور ان چند سال کے عرصہ میں ہی اس میں اس قدر کامیابی ہوئی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ان مختلف طریقہ ہائے علاج کی دریافت کے علاوہ اور بہت سی ایسی دریافتیں ہوئی ہیں جن سے علاج یا تشخیص کہ جو علاج صحیح کے لئے ضروری ہے، بہت سہل ہو گئی ہے۔مثلاً خوردبین