صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 55
صحیح البخاری جلد ۱۴ ٧٦ - كتاب الطب صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کی کہ ہر مرض کا علاج موجود ہے، صرف اسی رنگ میں تائید نہیں ہوئی کہ بعض امراض جو پہلے لا علاج یا بمشکل علاج پذیر سمجھی جاتی تھیں، ان کیلئے اب مفید اور سہل علاج دریافت ہو گئے ہیں بلکہ اس طرح بھی کہ کئی طریق علاج نئے دریافت ہوئے ہیں جن سے علاوہ لاعلاج امراض کے علاج معلوم ہونے کے دوسری امراض کے علاج میں بھی سہولت پیدا ہو گئی ہے اور یا تو صحت کا حاصل ہونا پہلے سے آسان ہو گیا ہے یا دواؤں کی قیمت اور خرچ میں کفایت ہو گئی ہے۔جس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کلمہ محکمت بیان فرمایا، اُس وقت علم طب کی صرف دو شاخیں تھیں یعنی یونانی اور ویدک۔باقی سب علاج انہی کی شاخیں تھیں یا ایسے طریق علاج تھے جو سائنس یا علم کہلانے کے مستحق نہ تھے لیکن اس کے بعد یورپ کی توجہ علم کی طرف پھرنے سے یونانی طریق علاج میں سے نشو و نما پا کر ایلو پیتھک طریق علاج نکل آیا۔اس کے بعد ہو میو پیتھک طریق علاج یعنی علاج بالمثل کی دریافت نے طبی دنیا میں ایک تغیر عظیم پیدا کر دیا اور یہ معلوم کر کے انسان کو سخت حیرت ہوئی کہ اس کی شفایابی کیلئے اللہ تعالیٰ نے نہایت حکمت سے ان ہی ادویہ میں قوتِ شفا بھی رکھی ہوئی ہے، جن سے اس قسم کی مرض پیدا ہوتی ہے۔گو یا بیماری کے ساتھ ہی اس کا علاج بھی رکھا ہے جو چیز جس قسم کی بیماری بڑی مقدار میں پیدا کرتی ہے اس کی تھوڑی مقدار جو زہر یا بد اثر ڈالنے کی حد سے نکل جائے، اسی قسم کی بیماری کے رفع کرنے میں نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔اس طریق علاج سے بہت سے امراض جو پہلے لاعلاج سمجھے جاتے تھے ، قابل علاج ثابت ہو گئے اور طبعی علوم میں بہت ترقی ہوئی۔اسی طرح علاج بالماء یعنی ہیڈ رو پیتھی (hydropathy) کے معلوم ہونے سے صرف غسل اور گیلے کپڑوں کی مالش سے بہت سی امراض کا علاج ہونے لگا اور بہت سے گہنہ امراض کے دفع کرنے میں اس علاج سے مدد ملی۔ٹولو ٹشور میڈیز (Twelve Tissue Remedies) یعنی بارہ نمکوں کے علاج کی ایجاد نے علاج کو ایسا آسان کر دیا کہ اب ہر ایک شخص کی مقدرت میں ہو گیا کہ وہ طبیب