صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 54 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 54

صحیح البخاری جلد ۱۴ ولد ۷۶ - كتاب الطب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ٧٦ - كِتَابُ الطب کتاب الطب اٹھاون ابواب اور ایک سو پانچ احادیث پر مشتمل ہے۔ طب کا لفظ اضداد میں سے ہے یعنی علاج اور بیماری دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (فتح الباری، جزء ۱۰ ، صفحہ ۱۶۶) طب کا لفظ سحر یعنی جادو کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اہل عرب کا خیال تھا کہ انسان کی بیماری کا سبب سحر یا جادو ہوتا ہے۔ اس لیے طب کو جادو کے معنوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ بخاری میں ہے : مَا بَالُ الرَّجُلِ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، يَعْنِي مَسْحُورًا کتاب الادب، روایت نمبر ۶۰۶۳) علامہ بدرالدین مینی له مینی لکھتے ہیں: الطب عِلْمُ يُعْرَفُ بِهِ أَحْوَالُ بَدنِ الْإِنْسَانِ مِنْ جِهَة مَا ! مِنْ جِهَا مَا يُصِحُ وَيَزُولُ عَنْهُ الصَّحَةُ وَأَمَّا الطَّبُ الَّذِي كَانَ سَيِّدُ نَا رَسُولُ اللهِ ﷺ يُشِيرُ إِلَيْهِ يُنْقَسَمُ إِلَى مَا عَرَفَهُ مِنْ طَرِيقِ الْوَحْيِ وَإِلَى مَا عَرَفَهُ مِنْ عَادَاتِ الْعَرَبِ وَإِلَى مَا يُرَادُ بِهِ التَّبَرُكَ كَالْاسْتِشْفَاء بِالْقُرْآنِ ( عمدة القاری جزء ۲۱ صفحہ ۲۲۹) طب وہ علم ہے جس میں صحت اور عدم صحت کے نقطہ نظر سے انسانی جسم کے احوال معلوم کیے جاتے ہیں۔ وہ طب جس کی طرف ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے اس کی تین قسمیں ہیں۔ اول جس کی آپ کو وحی الہی معرفت ہوئی، دوم: جس کی آپ کو عرب کی عادات سے معہ آپ کو عرب کی عادات سے معرفت ہوئی۔ سوم: جو بطور تبرک آپ سے ثابت ہے سے معرف جیسے قرآن مجید سے شفا حاصل کرنا۔ کہا جاتا ہے : الْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الْأَدْيَانِ وَعِلْمُ الْأَبْدَانِ (الموضوعات الكبرى لملا على القاري، حرف العين) علم دو ہی ہیں۔ دین کا علم اور طب کا علم۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تحصیل دین کے بعد طبابت کا پیشہ بہت عمدہ ہے۔ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۳۳۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی پاکر دنیا کو یہ نوید مسرت دی کہ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاء (صحیح مسلم، کتاب السلام ، باب لِكُلِّ دَاء دَواء) یعنی ہر مرض کا علاج ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ ہر ایک بیماری کا علاج موجود ہے، بالکل سچ تھا اور ایک ایسا نکتہ حکمت تھا جسے اُس زمانہ - ، اُس زمانہ کے حالات کا نتیجہ نہیں کہا جا سکتا بلکہ وہ اس زبردست ہستی کی طرف سے القا کیا گیا تھا جو نیچر کی پیدا کرنے والی اور اس کی طاقتوں سے واقف ہو۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم