صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 53
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۳ ۷۵ کتاب المرضى مصر مچھر وہاں پید اہوتے تھے اور مکہ چونکہ خشک علاقہ تھا وہاں کوئی مچھر نہیں تھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس وقت یہ دعا کی کہ اے اللہ اس کی آب و ہوا کو صحت مند بنا دے اور ہمارے لیے اس کے مد اور صاع کے پیمانوں میں برکت رکھ دے۔اور اس کے بخار کو یہاں سے جحفہ کی طرف منتقل فرما دے۔“ ( خطبه جمعه فرموده ۲ جون ۲۰۰۰ء، الفضل انٹر نیشنل ۱۴ جولائی ۲۰۰۰ صفحه ۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مدینہ کو جو برکت دی گئی اس کی ایک ظاہری صورت بھی تھی۔اس کی حقیقت حضرت عائشہ کی ایک روایت سے ظاہر ہوتی ہے۔آپ فرماتی ہیں کہ مدینہ میں آپ کی آمد سے پہلے بخار کی وباء سخت پھیلا کرتی تھی جب آپ وہاں تشریف لے گئے تو آپ کی دعا کے طفیل سے وہ وباء دور ہو گئی۔اسی وباء کی وجہ سے پہلے مدینہ کا نام یثرب تھا کیونکہ میثرب کے معنے رونا پیٹنا ہے۔مگر آنحضرت علی ایم کی دعا کی وجہ سے وہ وباء دور ہو گئی اور آئندہ بیٹرب کی بجائے آپ نے اس کا نام مدینہ رکھا۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ بنی اسرائیل، زیر آیت سُبُحْنَ الَّذِى اسرى بعبده۔۔جلد ۴ صفحه ۲۹۶)