صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 52 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 52

صحیح البخاری جلد ۱۴ فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ۔۵۲ ۷۵ کتاب المرضى اس کے صاع اور اس کے مد میں برکت عطا کر دے اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جاکر جحفہ میں ڈال دو۔أطرافه : ۱۸۸۹، ٣٩٢٦، ٠٥٦٥٤ ٦٣٧٢- ریح : مَنْ دَعَا بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْحُمَّى : جس نے وبا اور بخار کے ہٹائے جانے کی دعا کی۔بیماریوں اور وباؤں کا آنا بعض خاص موسموں ، ہواؤں کی تبدیلیوں، فضائی آلودگیوں اور بعض زمینی تغیرات کا نتیجہ ہوتا ہے۔نیز بعض علاقوں کا مخصوص موسم اور فضا بعض بیماریوں کے جراثیم کی افزائش کا موجب بنتی ہے۔دنیا میں بالعموم اس کا سد باب احتیاطی تدبیروں سپرے و دیگر مختلف ذرائع سے کیا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام احتیاطی تدابیر اور جملہ اسباب بروئے کار لاتے مگر آپ کا اصل انحصار اور بھروسہ اللہ تعالٰی پر ہو تا جو مسبب الاسباب ہے۔اس لیے آپ نے بار ہا خدا کے حضور دعاؤں کے ذریعہ بیماروں کو شفا دی، وباؤں اور موسموں کی تکالیف سے انسان کو بچانے کی کامیاب کوشش فرمائی اس کا ایک نمونہ زیر باب حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ مدینہ کی بخار پیدا کرنے والی فضا آپ کی دعا سے صحت افزا ہو گئی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں: ”مدینہ کے باشندے قدیم زمانہ سے عموم زراعت پیشہ رہے ہیں۔مدینہ میں گرمی شدت کی پڑتی ہے اور سرما میں سردی بھی بہت تیز ہوتی ہے اور جس زمانہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں مدینہ میں ملیر یا وغیرہ کی وبا بھی بہت پڑتی تھی اور لوگ بخار سے سخت تکلیف اُٹھاتے تھے۔چنانچہ جب شروع شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینہ میں ہجرت کر کے آئے تو بوجہ آب وہوا کی تبدیلی کے انہوں نے بہت تکلیف اُٹھائی اور بہت سے مسلمان بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان کی صحتوں کو بہت نقصان پہنچا۔چنانچہ احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا مروی ہے جو آپ نے مسلمانوں کی اس تکلیف کو دیکھ کر خدا کے حضور کی اور جس کے نتیجہ میں خدا نے مسلمانوں کو اس تکلیف سے نجات دی اور مدینہ کی فضا ایک بڑی حد تک وبائی جراثیم سے پاک ہو گئی۔“ (سیرت خاتم النبیین صل الله لم ، مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، صفحہ ۲۹۲) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مدینہ میں ملیریا کی وبا بہت عام تھی کیونکہ وہ پانی والا علاقہ تھا اور کثرت سے بڑے