صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 51
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۱ ۷۵ کتاب المرضى قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں ) قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا آئے، حضرت ابوبکر اور بلال کو بخار ہونے لگا۔أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ بیان فرماتی ہیں میں ان دونوں کے پاس گئی میں تَجِدُكَ قَالَتْ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا نے کہا: ابا آپ اپنے تئیں کیسے پاتے ہیں؟ اور أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: بلال تم اپنے آپ کو کیسے پاتے ہو ؟ بیان فرماتی ہیں جب حضرت ابو بکر کو بخار ہو تا تو یوں پڑھتے : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَحْ فِي أَهْلِهِ ہر آدمی جو اپنے کنبے میں صبح اٹھتا ہے تو اسے وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ سلامتی کی دعائیں دی جاتی ہیں حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی نزدیک ہوتی ہے۔وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ اور بلال کی عادت تھی کہ جب ان کا بخار اتر تا تو عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ: وہ بڑے جوش سے یہ شعر پڑھتے: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً اے کاش کہ مجھے پتہ ہو کہ آیا وادی (مکہ) میں بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ رات گزاروں گا جبکہ میرے ارد گرد اذخر اور جلیل گھاس ہوں گے اور آیا میں کسی دن مجنہ کے وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ پانی پر بھی پہنچوں گا اور کیا شامہ اور طفیل پہاڑ وَهَلْ تَبْدُونْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ تجھے کبھی دکھائی دیں گے۔قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللهِ عروہ نے کہا۔حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے ان کا حال بیان کیا۔آپ نے یہ دعا کی: اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا اے اللہ ! ہمیں مدینہ بھی ایسا ہی پیارا بنادے جیسا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِحْهَا وَبَارِكْ لَنَا کہ ہم مکہ سے پیار رکھتے ہیں یا اس سے بھی بڑھ فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا کر اور اسے صحت افزا بنا دے اور ہمارے لئے