صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 50
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۰ ۷۵ کتاب المرضى بھی اس طرف توجہ دلائی کہ صدقات دیتے رہنا چاہئے۔کیونکہ اگر چھوٹے موٹے ابتلاء آتے بھی ہیں تو ان دعاؤں اور صدقات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے بدنتائج سے محفوظ رکھتا ہے۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۱۵ اپریل ۲۰۰۵، جلد ۳ صفحه ۲۴۱،۲۴۰) باب ۲۱: وُضُوءُ الْعَائِدِ لِلْمَرِيضِ عیادت کرنے والے کا بیمار کے لئے وضو کرنا ٥٦٧٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۵۶۷۶ محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر ( محمد بن حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جعفر) نے مجھ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ اُنہوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی۔محمد نے جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کہا: میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا۔انہوں نے کہا: میرے پاس نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فَتَوَضَّأَ فَصَبَّ علیہ وسلم آئے اور میں بیمار تھا آپ نے وضو کیا اور عَلَيَّ أَوْ قَالَ صُبُوا عَلَيْهِ فَعَقَلْتُ مجھ پر پانی ڈالا یا فرمایا: اس پر پانی ڈالو تو مجھے ہوش آ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَا يَرِثُنِي إِلَّا گیا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ میں کلالہ ہی ہوں كَلَالَةٌ فَكَيْفَ الْمِيرَاتُ فَنَزَلَتْ آيَةُ میراث کیسے تقسیم ہو ؟ پھر وہ آیت نازل ہوئی جس میں ہر ایک کے حصے مقرر ہوئے۔الْفَرَائِضِ۔أطرافه : ١٩٤، ٤٥٧٧، ٦٧٢٣،٥٦٦٤،٥٦٥، ٦٧٤، ٧٣٠٩۔بَاب ۲۲: مَنْ دَعَا بِرَفْعِ الْوَبَاءِ وَالْحُمَّى جس نے وہا اور بخار کے ہٹائے جانے کی دعا کی ٥٦٧٧ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي :۵۶۷۷ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے ہشام عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے