صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 49
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹ ۷۵ کتاب المرضى وَقَالَ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي نے ابراہیم (شخصی) اور ابوالضحیٰ سے یوں نقل کیا کہ الضُّحَى وَحْدَهُ وَقَالَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا۔جب آپ کے پاس بیمار لایا جاتا۔اور جریر نے منصور سے منصور نے ابوالضحیٰ سے اکیلے یوں نقل کیا اور کہا کہ جب آپ کسی بیمار کے پاس آتے۔أطرافه : ٥٧٤٣، ٥٧٤٤ ٥٧٥٠ ح : دُعَاءُ الْعَائِدِ لِلْمَرِيض: عیادت کرنے والے کا پیار کے لئے دعا کرنا۔حضرت خلیفہ اصیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلتے ہوئے آپ کے صحابہ بھی بیماریوں میں دعاؤں پر زور دیا کرتے تھے اور یہی طریق آگے پھیلاتے تھے۔عبد العزیز روایت کرتے ہیں کہ میں اور ثابت ، انس بن مالک رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ثابت نے کہا اے ابو حمزہ! میں بیمار ہو گیا ہوں۔اس پر انس نے کہا کیا میں آپ پر وہ دم نہ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کو کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کیوں نہیں۔پھر حضرت انس نے ان الفاظ میں دم کیا۔اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْهِبَ الْبَأْسِ اِشْفِ اَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِي إِلَّا أَنْتَ شِفَاءٌ لَا يُغَادِرُ سَقَمًا کہ اے اللہ ! جو لوگوں کا رب ہے ، تکلیف کو دور کرنے والا ہے۔شفا عطا کر دے کیونکہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں۔اس کو ایسی شفا عطا کر کہ بیماری کا کچھ بھی اثر باقی نہ رہے۔تو مریض کو خود بھی اپنی بیماری کے لئے دعا کرنی چاہئے بجائے اس کے کہ اپنی بیماری کو کوسنے دے۔اور دوسرے بھی جو عیادت کے لئے جائیں ان کو اس کے لئے دعا کرنی چاہئے اور اسی طرح دعا کے ساتھ صدقات کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بڑی توجہ دلائی ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے مریضوں کا علاج صدقات کے ساتھ کرو۔یہ تم سے بیماریوں اور آنے والے ابتلاؤں کو دور رکھتا ہے۔تو ایک تو بیماری کی صورت میں صدقات کا حکم ہے کہ یہ بھی ایک قسم کا علاج ہے۔پھر بیماریوں اور بلاؤں سے بچنے کے لئے 1 (الصحيح البخاری، کتاب الطب، باب رقية النبي ﷺ) (كنز العمال، كتاب الطب، حدیث نمبر ۲۸۱۸۲)