صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 723 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 723

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۹ - كتاب الاستئذان رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ ذَلِكَ يُحْزِنَهُ۔علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر اُس وقت تک آپس میں سرگوشی نہ کریں کہ تم میں اور لوگ شامل ہو جائیں۔اس لئے کہ کہیں یہ بات اس کو رنجیدہ نہ کر دے۔٦٢٩١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي :۶۲۹۱: عبد ان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو حمزہ حَمْزَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ (محمد بن میمون) سے، ابو حمزہ نے اعمش سے ، اعمش عَبْدِ اللهِ قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے شقیق سے ، شقیق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قِسْمَةً فَقَالَ رَجُلٌ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ مِّنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ سلیم نے ایک دن مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا: یہ تو ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضامندی نہیں چاہی گئی۔میں نے کہا: دیکھو! اللہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ کی قسم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضرور جاؤں بِهَا وَجْهُ اللهِ قُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ وَهُوَ فِي مَلَإٍ فَسَارَرْتُهُ فَغَضِبَ حَتَّى گا۔چنانچہ میں آپ کے پاس آیا اور آپ اس وقت احْمَرٌ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ رَحْمَةُ اللهِ عَلَى بھری مجلس میں تھے۔میں نے چپکے سے ( آپ کے مُوسَى أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ كان میں) وہ بات کہی تو آپ (سن کر) اس قدر غصے میں آئے کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔پھر آپ نے فرمایا: موسیٰ پر اللہ کی رحمت ہو۔اُنہیں اس سے زیادہ دکھ دیا گیا اور انہوں نے صبر کیا۔أطرافه ۳۱٥۰، ٣٤٠٥ ٤٣٣٥ ٤٣٣٦ ٦٠٥٩ ، ٦١٠٠، ٦٣٣٦- بَاب ٤٨ : طُولُ النَّجْوَى دیر تک سرگوشی کرنا وَقَوْلُهُ: وَاذْهُمْ نَجْوَی (بنی اسرائیل: ۴۸) اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: یعنی جب وہ آپس میں سرگوشیاں مَصْدَرٌ مِنْ نَّاجَيْتُ فَوَصَفَهُمْ بِهَا کر رہے ہوتے ہیں۔نجوى مصدر ہے نَاجَيْتُ