صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 722
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۲۲ ۷۹ - كتاب الاستئذان تو بعض دفعہ یہ رنجیدگی بعض طبائع کی وجہ سے لڑائیوں اور جھگڑوں کی وجہ بن جاتی ہے، بدظنیوں کی وجہ بن جاتی ہے۔تو ہمیشہ مجلسوں میں اس طرح کرنے سے بچنا چاہیئے۔اور اگر کسی سے انتہائی ضروری بات کرنی بھی ہے تو جو ساتھ بیٹھا ہوا شخص ہے اس سے اجازت لے کر کہ میں فلاں شخص سے فلاں ضروری بات کرنا چاہتا ہوں، ایک طرف لے جاکے کرنی چاہیے تا کہ کسی بھی قسم کی بدظنی پیدا نہ ہو کیونکہ شیطان جو ہے ہر وقت اس تاک میں ہے کہ کسی طرح فساد پیدا کرے۔“ (خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۶ جولائی ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۴۹۵) بَاب ٤٦ : حِفْظُ السّر راز کو محفوظ رکھنا ٦٢٨٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ ۶۳۸۹: عبد اللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ أَسَرَّ باپ سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا بن مالک سے سنا۔(وہ کہتے تھے ) کہ نبی صلی اللہ علیہ فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ وَلَقَدْ وَسلم نے مجھے ایک راز کی بات بتائی تو میں نے آپ کے بعد وہ کسی کو بھی نہیں بتائی۔اور حضرت اُم سلیم سَأَلَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ۔نے بھی مجھ سے پوچھا تو میں نے اُن کو بھی وہ بات نہیں بتائی۔بَاب ٤٧ : إِذَا كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةٍ فَلَا بَأْسَ بِالْمُسَارَةِ وَالْمُنَاجَاةِ جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو پوشیدگی میں بات کرنے اور سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں ٦٢٩٠ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۶۲۹۰: عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے مجھ سے بیان کیا عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ که جریر بن عبد الحمید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ منصور بن معتمر) سے، منصور نے ابو وائل سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى ابووائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ