صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 721 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 721

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۲۱ ۷۹ - كتاب الاستئذان صَدَقَةٌ ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَّمْ صدقہ دیا کرو، یہ تمہارے لئے اچھا ہو گا اور دل کو تَجِدُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ پاک کرنے کا موجب ہو گا ( مگر یہ حکم انہی کے لئے وَالله خَبِير خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ہے جن کو توفیق ہو) اگر تم (کوئی چیز بھی صدقہ کے لئے ) نہ پاؤ تو ( ڈرو نہیں) اللہ بہت بخشنے والا (اور) (المجادلة: ١٣، ١٤) بار بار رحم کرنے والا ہے۔کیا تم مشورہ کرنے سے پہلے صدقہ دینے سے ڈر گئے ؟ سوچونکہ تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تم پر فضل فرما دیا ہے، پس تم نمازیں قائم کرو اور زکوتیں دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔٦٢٨٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۲۸۸: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ح۔و حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ مالک نے ہمیں بتایا۔نیز اسماعیل (بن ابی اویس) قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعِ عَنْ نے بھی ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ انہوں نے نافع سے ، نافع نے حضرت عبد اللہ بن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانُوا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو دو ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ۔تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشیاں نہ کریں۔تشريح : لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِیٹ: تیرے کو چھوڑ کر دو آپس میں سرگوشی نہ کریں۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: مجالس کے آداب اور اس کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ جب مجلس میں بیٹھیں تو مجلس میں اگر بات کر رہے ہیں تو اس طرح کریں کہ سب سن رہے ہوں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو افراد اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں کھسر پھسر نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا تیسرے شخص کو رنجیدہ کر دے گا۔لے ابو داؤد، کتاب الادب، باب في التناجي)