صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 719
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۱۹ ۷۹ - كتاب الاستئذان عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ ہو۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر چلے لَهَا عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ گئے تو میں نے اُن سے پوچھا: آنحضرت صلی اللہ الْحَقِّ لَمَّا أَخْبَرْتِنِي قَالَتْ أَمَّا الْآنَ علیہ وسلم نے تم سے چپکے سے کیا فرمایا؟ انہوں نے فَنَعَمْ فَأَخْبَرَتْنِي قَالَتْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي کہا: میں تو ایسی نہیں ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ وَسلم کے (منع کرنے کے باوجود آپ کے) راز کا جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ افشاء کروں۔جب آپ فوت ہو گئے تو میں نے ان سے کہا: میں تمہیں اسی حق کی قسم دیتی ہوں جو میرا مَرَّةً وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ تم پر ہے کہ تمہیں مجھے ضرور ہی بتانا ہو گا۔جب وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي انہوں نے مجھے بتایا تو کہا: ہاں اب تو بتاتی ہوں۔اللهَ وَاصْبِرِي فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا چنانچہ انہوں نے بتایا۔کہنے لگیں: جب آپ نے لَكِ قَالَتْ فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ پہلی بار مجھ سے راز میں بات کی تھی تو آپ نے مجھے فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ قَالَ بتایا تھا کہ جبرائیل ہر سال آپ کے ساتھ ایک دفعہ يَا فَاطِمَةُ أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ قرآن کا دور کیا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ میرے ساتھ دو دفعہ دور کیا ہے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ اجل قریب پہنچ چکی ہے۔تمہیں اللہ ہی کو اپنا سپر بنانا ہو گا اور صبر کرنا ہو گا کیونکہ میں تمہارے لئے بہت ہی اچھا پیش خیمہ ہوں گا۔کہتی تھیں: یہ سن کر میں رو پڑی، وہی جو آپ نے دیکھا تھا۔جب آپ نے میری بے قراری کو دیکھا تو دوبارہ آپ نے مجھے راز بتایا۔فرمایا: فاطمہ کیا تم پسند نہیں کرتی کہ تم مؤمن عورتوں کی سردار بنو یا فرمایا: اس اُمت کی عورتوں کی سردار بنو؟ الْأُمَّةِ۔أطراف الحديث ٦٢٨٥: ٣٦٢٣ ٣٦٢٥، ٣٧١٥، ٤٤٣٣۔أطراف الحديث ٦٢٨٦ ٣٦٢٤، ٣٦٢٦، ٣٧١٦، ٤٤٣٤۔