صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 718
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۱۸ ۷۹ - كتاب الاستئذان باب ٤٣: مَنْ نَّاجَى بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ جو لوگوں کے سامنے راز داری سے بات کرے وَمَنْ لَّمْ يُخْبِرْ بِسِرِّ صَاحِبِهِ فَإِذَا اور جو اپنے ساتھی کے راز کو نہ بتائے۔ جب وہ مَاتَ أَخْبَرَ بِهِ۔ فوت ہو جائے تو اس راز کو بتائے۔ ٦٢٨٥، ٦٢٨٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ ۶۳۸۵، ۶۲۸۶: موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہمیں أَبِي عَوَانَةَ حَدَّثَنَا فِرَاسٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ بتایا۔ انہوں نے ابو عوانہ وضاح نہ (وضاح بشکری) سے کہ مَّسْرُوقٍ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فراس ( بن یحی) نے ہم سے بیان کیا۔ فراس نے عامر سے، عامر نے مسروق سے روایت کی کہ مجھے قَالَتْ إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا حضرت عائشہ ام المؤمنین نے بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج تمام کی تمام آپ وَاحِدَةٌ فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ کے پاس تھیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ایسی نہ تھی جو نہ تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ بلائی گئی ہو۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام سامنے سے مِشْيَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم ان کی چال رسول اللہ فَلَمَّا رَآهَا رَحْبَ قَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي صلى الله علیہ وسلم کی چال سے ایسی مشابہ تھی کہ چھپی ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ نہ رہتی تھی۔ جب آپ نے اُن کو دیکھا تو آپ نے ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا فَلَمَّا خوشی سے استقبال کیا، فرمایا: مرحبا میری بیٹی۔ پھر رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَإِذَا هِيَ آپؐ نے ان کو اپنی دائیں طرف بٹھا لیا یا (کہا:) تَضْحَكُ فَقُلْتُ لَهَا أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ اپنی بائیں طرف۔ پھر آپ نے ان سے پوشیدہ بات کی اور وہ بہت ہی روئیں۔ جب آپؐ نے اُن کے خَبَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اس غم کو دیکھا تو آپ نے دوبارہ ان سے پوشیدگی وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ میں بات کی تو کیا دیکھتے ہیں کہ و ہیں کہ وہ ہنس رہی تھیں۔ تو فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ آپؐ کی ازواج میں ازواج میں سے میں نے ان سے پوچھا: وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ قَالَتْ مَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوشیدگی میں كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ تم سے خصوصیت سے بات کی ہے، پھر تم رورہی