صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 716 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 716

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۱۶ ۷۹ - كتاب الاستئذان ٦٢٨٢ ، ٦٢٨٣ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ۶۲۸۳-۶۲۸۲: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے کی۔ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت انہوں نے اُن کو کہتے ہوئے سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَم علیہ وسلم جب مسجد قبا کو جاتے تو حضرت ام حرام إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى بنت ملحان کے ہاں جاتے۔ وہ آپ کو کھانا کھلاتیں أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَكَانَتْ اور وہ حضرت عبادہ بن صامت کی بیوی تھیں۔ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ يَوْمًا ایک دن آپ ان کے ہاں گئے اور حضرت ام حمر ائم فَأَطْعَمَتْهُ فَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله نے آپ کو کھانا کھلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ سوئے پھر ہنستے ہوئے جاگے ۔ حضرت ام حرام کہتی تھیں : میں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! آپ کو کیا قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ بات ہنسار ہی ہے ؟ آپ نے فرمایا: میری اُمت میں اللَّهِ فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جوا غزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ فَبَعَ هَذَا کی راہ میں غازی ہیں۔ اس سمندر میں سوار جارہے الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ مِثْلَ ہیں، بادشاہ ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے یا فرمایا: جیسے الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ يَشُكُ إِسْحَاقُ بادشاہ ہوتے ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اسحاق قُلْتُ ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ نے ان الفاظ کے متعلق شک کیا۔ میں نے کہا: اللہ فَدَعَا ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ سے دعا کریں کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے۔ يَضْحَكُ فَقُلْتُ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ آپ نے دعا کی اور پھر سر رکھ کر سو گئے۔ پھر جاگے اللہ تو نہیں رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یا رسول الله ! اللهِ قَالَ نَاسٌ مِّنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ آپ کو کیا بات ہنسار ہی ہے؟ آپ نے فرمایا: میری غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا اُمت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ اللہ کی راہ میں غازی ہیں۔ اس سمندر میں سوار جا الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فَقُلْتُ ادْعُ اللهَ رہے ہیں۔ بادشاہ ہیں تختوں پر بیٹھے ہوئے۔ یا